ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی راستے تجارت کا آغاز

datetime 11  اپریل‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی راستے سے تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور کے تحت تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا اور اس کوریڈورسے پاکستان سے پہلا برآمدی کنسائمنٹ بھی بھیج دیا گیا ہے۔ڈائریکٹوریٹ ٹرانزٹ ٹریڈ کسٹمز ثنااللہ ابڑو نے اس ضمن میں بتایا کہ پہلی برآمدی کھیپ ریفریجریٹڈ ٹرکوں کے ذریعے ازبکستان تاشقند کے لیے منجمد گوشت بھیجا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے ٹرانزٹ کوریڈور کے ذریعے اشیا کے کنسائمنٹس گوادر، ایران کے راستے وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس کوریڈور کے فعال ہونے سے پاکستان کی ناصرف معیشت کی نمو کی رفتار تیز ہوجائے گی بلکہ پاکستانی بندرگاہوں پر رش بھی بڑھ جائے گا۔ڈائریکٹوریٹ کے مطابق پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور کا عملی آغاز ٹی آئی آر کے تحت کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ڈائریکٹوریٹ ٹرانزٹ ٹریڈ کسٹمز نے ٹی آئی آر کے طریقہ کار کو موثر بناتے ہوئے ٹی آئی آر ٹرانزٹ کے لیے تافتان، رمدان، سوست، گوادر ودیگر اہم بارڈر کراسنگ پوائنٹس کو فعال کیا ہے۔پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور پاکستان کی تجارت اور ٹرانزٹ شعبے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا اور اس پیشرفت کو پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک کامیابی قرار دیا جارہا ہے جو نہ صرف برآمدات میں اضافے کاباعث بنے گا بلکہ علاقائی رابطوں کو بھی نئی جہت دے گا۔

ذرائع کے مطابق ایران کوریڈور کے فعال ہونے سے پاکستان کو سمندری راستوں پر انحصار کم کرتے ہوئے ایک متبادل اور کم لاگت تجارتی راستہ میسر آئے گا جس سے ٹرانزٹ دورانیئے میں کمی اور کاروباری لاگت میں خاطر خواہ کمی ممکن ہوسکے گی، اس سلسلے میں منعقدہ تقریب میں ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ کسٹمز ثنااللہ ابڑو اور ڈائریکٹر ٹرانزٹ محمد راشد نے پہلی کنسائمنٹس کو روانہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…