خیرپور(این این آئی)خیرپور ٹی بی ہسپتال عرف نواب خان وسان ہسپتال میں ٹی بی کے مریضوں کے لئے ادویات کی قلت شدت اختیار کرگئیں،ایکسرے فلمیں،لیبارٹری کیمیکل بھی ناپید ہوگئی مریض رل گئے ایکسرے فلمیں نہ ہونے اور 60 سالہ پرانی ایکسرے مشین اپنی افادیت ختم کرگئی
ڈاکٹرایکسرے پڑھنے سے قاصر،پرائیویٹ لیبارٹری سے مہنگے دام ایکسرے کرانے پر مجبور،تفصیلات کے مطابق ہر خاص و عام کی زبان پرنواب وسان ہسپتال کے نام سے شہرت رکھنے والا خیرپور ٹی بی ہسپتال ادویات ایکسرے سمیت دیگر بنیادی مسائل کی بھینٹ چڑھ گیا ہے مریضوں نے ہسپتال سے علاج کرانے کے لئے راستہ تبدیل کرلیا ہے مریضو کا کہناتھاکہ انہیں ہسپتال میں ایکسرے،لیبارٹری ادویات سمیت دیگر علاج معالجہ کی سہولت دستیاب نہیں ہے اور نہ ہی وہاں سینہ دمہ سانس اور تپ دق مرض کا ماہر ڈاکٹر موجود نہ ہونے کی وجہ سے ان کا ہسپتال جانا اپنے خرچے میں اضافہ اور علاج سے محرومی کے سوا کچھ بھی نہیں ہیٹی بی کنٹرول پروگرام کے فوکل پرسن ڈاکٹر عبدالرحیم پھنور کے تبادلے کے بعد ہسپتال ویران ہوگیا ہے ٹی بی،چیسٹ،دمہ سانس اور دیگر امراض کے ماہر ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کے سبب علاج کے لئے آنے والے مریض رل گئے ہیں انہوں نے ٹی بی ہسپتال کو بچانے اور ٹی بی مرض کی روک تھام کے لئے بالائی سندھ کے ٹی بی ہسپتال میں ماہر ڈاکٹروں کو تعیناتی کو یقینی بناکر ٹی بی دمہ سانس سمیت دیگر ان سے ملحقہ بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی زندگیوں کو بچایا جائے کا مطالبہ کیا ہے۔



















































