اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ میں نے اس وائرس کی شناخت اس وقت کی تھی جب شاہنواز بھٹو کو قتل کیا گیا تھا، شاہنواز بھٹو کو وار پوائزن سے مارا گیا تھا۔ میرے سامنے فرانسیسی پولیس نے یہ بلی کو کھلایاتھا اور جس طرح بلی کی موت واقع ہوئی یہی صورتحال اس وقت مرنے سے پہلے شاہنواز بھٹو کی تھی۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ میرا اندازہ ہے کہ کرونا وائرس انسان کا خود تخلیق کیا گیا
اور اس کو مختلف جگہوں پر داخل کیا گیا اور یہ وہاں اتنی تیزی سے پھیلا۔ وزیر اعظم عمران خان نے جتنا وقت آئی جی سندھ کے حوالہ سے لگایا ہے اگر اتنا وقت کشمیر پر لگاتے تو شایدکشمیر کا مسئلہ حل ہو جاتا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ بات مان بھی لی جائے کہ کرونا وائرس قدرتی طور پر چین میں پیدا ہوا تاہم اب اس کو بائیولوجیکل وار فیئر بنا دیا گیا ہے اور کو اس شکل میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور میری پیشگوئی ہے کہ اس سے سب سے زیادہ نقصان چین، چین کی عوام، چین کی ایکسپورٹ، چین کے کاروبار اور چین کی معیشت کو پہنچے گا۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ میرا اندازہ ہے کہ کرونا وائرس انسان کا خود تخلیق کیا گیا اور اس کو مختلف جگہوں پر داخل کیا گیا اور یہ وہاں اتنی تیزی سے پھیلا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ نہیں پتا کہ یہ وائرس کس نے بنایا ہے تاہم یہ وائرس اس پوزیشن میں ہے کہ اس میں دنیا کو جزوی طور پر مفلوج کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور اس نے پورے چین کو مفلوج کر دیا ہے۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت چین کو کرونا وائرس کا آئیکون بنایا جا رہا ہے اور اگر کوئی چینی باہر نظر آئے گا تو لوگ اس سے ہاتھ ملانے سے گریز کریں گے، پاکستان اور چین کو مل کر اس وائرس کو کنٹرول کرنا چاہئے اور پاکستانی ڈاکٹروں کی ٹیمیں محفوظ راستے سے چین جانی چاہئیں جو ان کی مدد کریں اور دونوں ملک مل کر اس وائرس کی تفتیش کریں کہ یہ کہاں سے آیا اور اس وقت اس کی موجودگی کہاں، کہاں ہے اور مل کر دیکھیں کہ اس کا خاتمہ کیسے ہو سکتا ہے۔



















































