اسلام آباد (این این آئی)مسلم لیگ (ن)کے رہنماء و سابق گورنر محمد زبیر نے کہاہے کہ نئے پاکستان کا بڑا شور تھا، غربت،مہنگائی اور بے روز گاری کے علاوہ نئے پاکستان میں کیا ہے؟ شہزاد اکبر صاحب پر ہر روز ٹی وی پر بیٹھ کر چیلنج کرتے تھے،شہباز شریف صاحب نے لندن میں ڈیلی میل کو چیلنج کردیا، پرائیوٹ بینکوں میں پندرہ سولہ فیصد ہو گا،ایک کروڑ اسی لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جانے والے ہیں۔
اتوار کو یہاں نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خاطب کرتے ہوئے کہاکہ پریس کانفرنس معیشت کے حوالے سے کر رہا ہوں۔انہوں نے کہاکہ شہزاد اکبر صاحب پر ہر روز ٹی وی پر بیٹھ کر چیلنج کرتے تھے،شہباز شریف صاحب نے لندن میں ڈیلی میل کو چیلنج کردیا۔ انہوں نے کہاکہ نئے پاکستان کا بڑا شور تھا غربت مہنگائی اور بے روزگاری کے علاوہ نئے پاکستان میں کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ غریب ادمی کی کمائی کا چوبیس فیصد فوڈ پر خرچ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ خان صاحب اپ نے بحران پیدا کیے،آٹا پچھلے ایک ماہ میں بیس روپیے مہنگا ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ غریبوں کی جیب سے نکالا گیا چالیس بلین کس کی جیب میں گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ آٹے کا بحران ہے کیا ستمبر میں ایکسپورٹ کرنے کی منظوری سے جنوری میں امپورٹ کر رہے ہیں،یہ سارے کون کر رہا ہے جہانگیر ترین۔انہوں نے کہاکہ فیصلہ ای سی سی نے کرنے ہیں مگر جہانگیر ترین کر رہا ہے۔محمد زبیر نے کہاکہ آٹے کا بحران ختم نہیں ہوا اور چینی کا بحران شروع ہو گیا،شوگر انڈسٹری کون کنٹرول کرتا ہے؟۔انہوں نے کہاکہ خان صاحب کے دائیں بائیں والے شوگر انڈسٹری کے سربراہ ہیں،وزیراعظم کہتے ہیں مجھے پتہ ہے کون ذمہ دار ہے،انکی کابینہ میں بیٹھے لوگ اس بحران کے زمہ دار ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایک طرف چینی ایکسپورٹ کررہے ہیں دوسری طرف امپورٹ ہورہی ہے۔انہوں نے کہاکہ تیرا روپے اسٹیٹ بینک کا سود ریٹ ہے۔ زبیر عمر نے کہاکہ پرائیوٹ بینکوں میں پندرہ سولہ فیصد ہو گا،
ایک کروڑ اسی لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جانے والے ہیں۔زبیر عمر نے کہاکہ پہلے عوام کو غربت کی لکیر سے نیچے لے جاکر لنگر خانہ کھولے جارہے ہیں۔زبیر عمر نے کہاکہ پالیساں بنائیں انڈسٹریز لگائیں نوکریاں پیدا کریں۔محمد زبیر نے کہاکہ وزیراعظم نے تسلیم کر لیا مجھے مس لیڈ کیا جارہا ہے۔زبیر عمر نے کہاکہ مافیاز کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لے رہے ہیں۔زبیر عمر نے کہاکہ حکومتی اتحادی کہہ رہے ہیں جہاں کرپشن پانچ سو تھی اج پچاس ہزار ہو گئی ہے۔زبیر عمر نے کہاکہ معیشت کا بہت اہم ایشو ہے ایف بی ار چیرمین بیمار ہیں اللہ انکو صحت عطا فرمائے۔زبیر عمر نے کہاکہ ائی ایم ایف کے ڈنڈے کی وجہ سے چار سو بلین کا شارٹ فال ہو چکا ہے۔
زبیر عمر نے کہاکہ آئی ایم ایف کون ہوتا ہے؟ پارلیمنٹ میں یہ چیزیں کیوں نہیں لائی جاتی۔زبیر عمر نے کہاکہ بجلی گیس بچوں کی فیس اور ٹیکسز کہاں سے ادا کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ مہنگائی ہر مہینے بڑھ رہی ہے،آٹا، چینی، چاول،ٹماٹر ہر مہینہ میں ایک بحران کھڑا ہو جاتا ہے۔زبیر عمر نے کہاکہ آپ نے کہا مسلط کر دیا گیا کس نے مسلط کیا اس حکومت کو؟۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے مسلط کیا انکو ہمارے اوپر،آر ٹی ایس سسٹم زمہ دار ہے اس تمام خرابی کا۔انہوں نے کہاکہ کہا جاتا تھا خان صاحب آگئے تو زرمبادلہ کے زخائر بڑھ جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت آئی تھی تو بے شمار چینلجز تھے ہم نے تو کوئی رونا دھونا نہیں کیا۔زبیر عمر نے کہاکہ حکومتوں کو چینلجز ملتے ہیں حکومتوں کا کام انکو حل کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن کی لیڈرشپ کا کام ہے عوام کو مسائل سے نکالے۔زبیر عمر نے کہاکہ ہم اپنی زمہ داری کا احساس رکھتے ہیں بلکل عوام کو اس سے نکالیں گے۔



















































