اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی معروف بلاگر سنتھیا رچی نے دعویٰ کیا ہے کہصدر آصف زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو اورنقیب اللہ مسعود کے مابین معاشقہ تھا اور دونوں آپس میں خفیہ ملاقتیں بھی کیا کرتے تھے۔سینتھیا ڈی رچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر آصفہ بھٹو زرداری کی طرف سے کئے گئے ایک ٹویٹ کے جواب میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا جس کے بعد ٹویٹر پر صارفین کے
درمیان ایک لمبی بحث چھڑ گئی ۔ آصف علی زرداری کی بیٹی آصفہ بھٹو نے پی ٹی ایم کے رہنما ئوں کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ” پرامن احتجاج کوئی جرم نہیں‘‘ جس پر ردعمل دیتے ہوئے سینتھیا ڈی رچی نے کہا کہ احتجاج تو واقعی جرم نہیں مگر وہ دھرتی جس پر سیکورٹی فورسز نے امن قائم کرنے کیلئے بے حد کوششیں کی ہیں ، امریکی معروف بلاگر سینتھیا ڈی رچی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ نقیب اللہ محسود آصف علی زرداری کی بیٹی کے ساتھ ”ڈیٹنگ ”میں ملوث تھا ااور پھر اس معاملہ کو غلط رنگ دے کر ریاست کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔سینتھیا ڈی رچی کے اس ٹوئیٹ نے پیپلزپارٹی کے حامیوں کو بڑھاکایا اور لکھا کہ یہ بختاور بھٹو کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔تاہم سینتھیا ڈی رچی نے کہا ہے کہ رپورٹس کے مطابق بطور رکن لبرل جمہوری پارٹی بختاور بھٹو کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مرد کے ساتھ اپنی مرضی سے ڈیٹ مار سکتی ہیں ،سینتھیا ڈی رچی کے اس بیان کی متعدد صارفین نے تائید کی ہے۔امریکی بلاگر کا کہنا تھا کہ ان کے سابقہ ٹوئیٹس کا ہرگز مقصد بختاور بھٹو کی دل آزاری نہیں تھا بلکہ یہ کہ تحقیقاتی صحافی پی ٹی ایم کے معاملے کو انسانی حقوق کے علاوہ دوسرے زاویوں سے بھی تحقیق کریں۔ سنتھیا رچی کا مزیدکہنا تھا کہ گالی دینے کا شکریہ لیکن میں وہ پہلی نہیں ہوں جس نے یہ بات کی ہے اور نہ ہی آخری ہونگی۔میں بختاور کی شہرت کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی ،ایک لبرل پارٹی کی کارکن ہونے کی حیثیت سے وہ جس سے چاہیں معاشقہ کرسکتی ہیں یا نہیں ؟؟اس کے جواب میں معروف اینکر پرسن جمیل فاروقی کہا ہے کہ میں نے دو سال قبل اس پر ایک اسٹوری لکھی تھی ، میرے کالم نے بڑے بڑوں کو ہلا دیا تھا ، مگر رائو انوار کو کوئی فرق نہیں پڑا ۔ ان کا کہنا کہ اس معاملے پر امریکی صحافی بولیں ہیں تو اس کی میں تصدیق کرتا کہ میرے کالم میں چھپنے والی اسٹوری بالکل سچ پر مبنی تھی ۔ جمیل فاروقی نے کہا ہے کہ امریکی صحافیوں کو تحقیقات میں دو سال لگانے پر اکیس توپوں کی سلامی دینی چاہیے۔ امریکی بلاگر سینتھیا ڈی رچی نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ پی ٹی ایم کے لوگ ریاست سے کئی گنا زیادہ انسانی حقوق کی تذلیل کرتے ہیں ۔اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ ریاست اور فوج کے خلاف پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کی پہلے سے سوچی سمجھی سازش تھی۔
Yes, this is yet another controversy. Some reports say Mehsud was actually ‘dating’ Zardari’s daughter; subsequent fallout was conflated with misdirection and ultimately attempts to malign the state.
— Cynthia D. Ritchie (@CynthiaDRitchie) January 28, 2020
1/2 Some clarification is needed regarding this tweet:
✴️ whether a young man and woman were friends, dating or whatever is no one’s business but the families involved.
✴️my point with this tweet is there is much more to PTM than claims of missing persons, HR abuses and that https://t.co/N6yIKwKD7Y
— Cynthia D. Ritchie (@CynthiaDRitchie) January 31, 2020
Correct. Peaceful protests aren’t a crime. Inciting riots in areas the security agencies have worked hard to stabilize – is.
BTW, next elections, will your party withhold water resources in Sindh unless poor voters vote PPP in office-like some reports say they’ve done in past? https://t.co/IZ8NXAuwFD
— Cynthia D. Ritchie (@CynthiaDRitchie) January 28, 2020



















































