جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

افغانستان میں تباہ ہونے والے طیارے میں سی آئی اے اور امریکی فوج کے اعلی حکام سوار تھے، طالبان نے طیارہ گرانے کی ذمے داری قبول کر لی

datetime 27  جنوری‬‮  2020 |

کابل(این این آئی) افغانستان میں مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا مسافر میں 80سے زائد افراد سوار تھے، حادثے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کاخدشہ ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کی سرکاری ائیرلائن آریانا ائیرلائنز کا مسافر طیارہ ہرات سے کابل کیلئے پرواز کررہا تھا جو صوبہ غزنی کے مشرقی ضلع دیہک کے پہاڑی علاقے میں گر کر تبا ہوگیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق طیارے میں 80 سے

زائد مسافر سوار تھے اور طیارہ جس علاقے میں گر کر تباہ ہوا یہ علاقہ طالبان کے زیر کنٹرول ہے۔افغان میڈیا کے مطابق طیارہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے کے قریب گرا جس میں سوار مسافروں اور عملے کے حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔صوبہ غزنی کے گورنر کے ترجمان نے طیارہ حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ طیارہ دیہک ضلع کے علاقے سادو خیل میں گرا جب ہ حادثے میں ہلاکتوں کے حوالے سے اب تک مصدقہ اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ترجمان گورنر نے مسافر طیارہ گرنے کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ یہ علاقہ طالبان کے زیر اثر ہے اس لیے امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حادثے میں جانی نقصان سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔عینی شاہدین کے مطابق طیارہ گرنے کے بعد طیارے میں آگ بھڑک اْٹھی، حادثہ اتنا خوفناک ہے کہ طیارے میں موجود مسافروں کے زندہ بچ جانے کے امکانات نہایت کم ہیں۔ البتہ غزنی صوبے کے گورنر کے ترجمان عارف نوری نے کہا کہ ابھی تک یہ علم نہیں کہ یہ مسافر طیارہ تھا یا فوجی اور یہ بھی معلوم نہیں کہ اس میں کتنے مسافر سوار تھے۔صوبائی پولیس کے ترجمان نے بھی طیارے کی تباہی کی تصدیق کردی ہے تاہم وہ بھی یہ شناخت کرنے میں ناکام رہے کہ یہ مسافر طیارہ تھا یا فوجی۔تین سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ افغانستان کی سرکاری فضائیہ آریانا کا طیارہ تھا تاہم فضائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میر واعظ میر زکوال نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔میر زکوال نے کہ طیارہ تباہ ہوا ہے لیکن وہ ہمارا نہیں۔انہوں نے کہا کہ آریانا کی جانب سے چلائی جانے والی کابل سے ہرات اور ہرات سے دہلی کی دونوں پروازیں محفوظ ہیں۔افغان صدر اشرف غنی کے دفتر کے سینئر عہدیدار نے بتایا کہ طیارہ صوبہ غزنی میں گر کر تباہ ہوا اور حکام تفصیلات اکٹھی کر رہے ہیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…