جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

جرمنی میں مقیم بھارتی شہری بھی شہریت کے فسطائی قانون پر ناراض کہاں مظاہرے کا اعلان کردیا؟مودی سرکار کی نیندیں اڑ گئیں

datetime 26  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت کے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی لہر یورپ تک پہنچ چکی ہے۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق جرمن شہر میونخ میں پیدا ہونے والی صبورا منپریت نقشبند خود کو بھارت میں محفوظ سمجھتی تھیں، ان کو کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ان کی پیدائش بھارت میں نہیں ہوئی۔ لیکن بھارتی حکومت کے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے بعد

وہ اپنے اہل خانہ  کے لیے پریشان ہیں۔ نقشبند کے بقول میری ماں جنوبی بھارت کی ایک مسلمان خاتون ہیں جن کی شادی شمالی بھارت کے ایک سکھ شخص سے ہوئی۔ ستر کی دہائی میں انہوں نے معاشی تنگی کی وجہ سے جرمنی ہجرت کی۔لیکن میری دادی ابھی بھی بھارتی ریاست پانڈی چیری میں رہتی ہیں۔بھارتی حکومت نے شہریت سے متعلق جو نیا قانون منظور کیا ہے اس میں پڑوسی ممالک، پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ایسے تمام تارکین وطن کو شہریت دینے کی بات کی گئی ہے جو وہاں اقلیت میں ہیں لیکن مسلمان اس میں شامل نہیں ہیں۔  اس کے خلاف بھارت کے مختلف شہروں میں تو احتجاجی مظاہرے جاری تھے، جرمن دارالحکومت برلن میں بھارتی شہریوں نے بھی ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ اس احتجاجی مظاہرے میں شریک نقشبند نے بتایا کہ بھارت کے کثیرالثقافتی تشخص کو فسطائیت نقصان پہنچا رہی ہے۔علاوہ ازیں برلن میں پیدا ہونے والی ایک بھارتی طالبہ کیرتی نے کہاکہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے اثرات مذہبی امتیاز سے بڑھ کر ہو سکتے ہیں۔ بھارت میں  ہندو قوم پسند حکومتی جماعت بی جے پی کے ان حالیہ اقدامات کے خلاف جرمنی کے بڑے شہر برلن، ہیمبرگ، فرینکفرٹ اور میونخ میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پراتوارکو بھی برلن سمیت دیگر شہروں میں مظاہرے کیے گئے جبکہ یکم فروری کو جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے سامنے بھی احتجاجی مظاہرے کیا جائے گا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…