جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

حاملہ خواتین کے لیے امریکی ویزے کے نئے قواعد نافذکرنے کااعلان

datetime 24  جنوری‬‮  2020 |

واشنگٹن (این این آئی)حاملہ خواتین کے ویزے سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ نے نئے قواعد کے نفاذ کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ایسی خواتین کو امریکہ آنے سے روکنا ہے جو محض امریکی شہریت کی خاطر یہاں آ کر بچے کو جنم دیتی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایسی درخواست دہندگان کو اس وقت تک سیاحت کا ویزا جاری نہیں کیا جائے گا، جب تک وہ یہ ثابت نہ کریں کہ طبی بنیادوں پر ان کا امریکہ جانا ضروری ہے،

اور یہ کہ ان کے پاس درکار رقم موجود ہے، نہ یہ کہ بچے کے پاسپورٹ کے حصول کی خاطر وہ بچہ پیدا کرنے کی خواہش مند ہیں۔وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری اسٹیفنی گرشام نے ایک بیان میں کہا کہ امیگریشن کے اس نقص کو ختم کرنے سے اس کے مستقل غلط استعمال کو روکا جا سکے گا، اور آخرکار اس روایت کے نتیجے میں امریکہ کے لیے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا مداوا کیا جا سکے گا۔بقول ان کے اس کے نتیجے میں امریکی ٹیکس دہندگان کی محنت کی کمائی ہوئی دولت کا غلط استعمال روکا جا سکے گا جو رقم بچے کی پیدائش سے متعلق سیاحت پر اٹھنے والے اخراجات پر خرچ ہو رہی تھی۔ ساتھ ہی، امریکی شہریت کی حرمت کا دفاع ممکن ہو گا۔جب کہ بنیادی طور پر امریکہ کا سفر کر کے بچہ پیدا کرنا ایک قانونی عمل تھا، جب کہ چند معاملوں میں حکام کی جانب سے ’برتھ ٹورزم‘ ویزے کی دھوکہ دہی اور ٹیکس چوری کے زمرے میں شمار کی جاتی رہی ہے۔ویزے کی درخواست دیتے ہوئے، خواتین اکثر و بیشتر اپنے ارادے کا ایمانداری سے برملا اظہار کرتی ہیں، جب کہ وہ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کی دستخط شدہ دستاویز تک پیش کرتی ہیں۔نئے ضابطوں کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نہیں سمجھتا کہ امریکی شہریت کے حصول کے بنیادی مقصد کے لیے، عرف عام میں بچہ جننے کی سیاحت، کسی طور پر سکون کی حامل یا تفریحی نوعیت کا جائز عمل ہے۔بچہ جننے کی سیاحت کے ان نئے قواعد کا تعلق زیادہ تر چین اور روس سے آنے والے سیاحوں سے ہے۔ادھر، سرحد پر غیر قانونی امیگریشن کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی سخت کارروائی کے نتیجے میں امریکہ میکسیکو سرحد پر حاملہ خواتین کو واپس کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل خواتین کے ہمراہ آنے والے چھوٹے بچوں کو داخل ہونے کی اجازت دی جاتی رہی تھی، جب کہ پناہ کے خواہش مند لاکھوں افراد کو یہ کہتے ہوئے میکسیکو لوٹا دیا گیا، کہ وہ اپنی باری کا انتظار کریں۔نئی پالیسی کے ناقدین کا کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں حاملہ خواتین کو خطرہ لاحق ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…