جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

حاملہ خواتین کے لیے امریکی ویزے کے نئے قواعد نافذکرنے کااعلان

datetime 24  جنوری‬‮  2020 |

واشنگٹن (این این آئی)حاملہ خواتین کے ویزے سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ نے نئے قواعد کے نفاذ کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ایسی خواتین کو امریکہ آنے سے روکنا ہے جو محض امریکی شہریت کی خاطر یہاں آ کر بچے کو جنم دیتی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایسی درخواست دہندگان کو اس وقت تک سیاحت کا ویزا جاری نہیں کیا جائے گا، جب تک وہ یہ ثابت نہ کریں کہ طبی بنیادوں پر ان کا امریکہ جانا ضروری ہے،

اور یہ کہ ان کے پاس درکار رقم موجود ہے، نہ یہ کہ بچے کے پاسپورٹ کے حصول کی خاطر وہ بچہ پیدا کرنے کی خواہش مند ہیں۔وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری اسٹیفنی گرشام نے ایک بیان میں کہا کہ امیگریشن کے اس نقص کو ختم کرنے سے اس کے مستقل غلط استعمال کو روکا جا سکے گا، اور آخرکار اس روایت کے نتیجے میں امریکہ کے لیے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا مداوا کیا جا سکے گا۔بقول ان کے اس کے نتیجے میں امریکی ٹیکس دہندگان کی محنت کی کمائی ہوئی دولت کا غلط استعمال روکا جا سکے گا جو رقم بچے کی پیدائش سے متعلق سیاحت پر اٹھنے والے اخراجات پر خرچ ہو رہی تھی۔ ساتھ ہی، امریکی شہریت کی حرمت کا دفاع ممکن ہو گا۔جب کہ بنیادی طور پر امریکہ کا سفر کر کے بچہ پیدا کرنا ایک قانونی عمل تھا، جب کہ چند معاملوں میں حکام کی جانب سے ’برتھ ٹورزم‘ ویزے کی دھوکہ دہی اور ٹیکس چوری کے زمرے میں شمار کی جاتی رہی ہے۔ویزے کی درخواست دیتے ہوئے، خواتین اکثر و بیشتر اپنے ارادے کا ایمانداری سے برملا اظہار کرتی ہیں، جب کہ وہ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کی دستخط شدہ دستاویز تک پیش کرتی ہیں۔نئے ضابطوں کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نہیں سمجھتا کہ امریکی شہریت کے حصول کے بنیادی مقصد کے لیے، عرف عام میں بچہ جننے کی سیاحت، کسی طور پر سکون کی حامل یا تفریحی نوعیت کا جائز عمل ہے۔بچہ جننے کی سیاحت کے ان نئے قواعد کا تعلق زیادہ تر چین اور روس سے آنے والے سیاحوں سے ہے۔ادھر، سرحد پر غیر قانونی امیگریشن کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی سخت کارروائی کے نتیجے میں امریکہ میکسیکو سرحد پر حاملہ خواتین کو واپس کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل خواتین کے ہمراہ آنے والے چھوٹے بچوں کو داخل ہونے کی اجازت دی جاتی رہی تھی، جب کہ پناہ کے خواہش مند لاکھوں افراد کو یہ کہتے ہوئے میکسیکو لوٹا دیا گیا، کہ وہ اپنی باری کا انتظار کریں۔نئی پالیسی کے ناقدین کا کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں حاملہ خواتین کو خطرہ لاحق ہو گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…