ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

فیصل واوڈا کی نااہلی کیلئے الیکشن کمیشن سے بڑا مطالبہ کر دیا گیا

datetime 21  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کو نااہل قرار دینے کے لیے 2018 کے عام انتخابات میں ان کے مدمقابل لڑنے والے پیپلزپارٹی کے امیدوار قادر خان مندو خیل ایڈوکیٹ نے الیکشن کمیشن پاکستان کو خط لکھا ہے۔ فیصل واوڈا نے کراچی کے حلقے این اے 249 سے الیکشن جیت کر قومی اسمبلی پہنچے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل شہباز شریف کو چند سو ووٹوں سے

شکست ہوئی تھی۔ اِسی حلقے سے فیصل واوڈا کے خلاف الیکشن لڑنے والے پیپلزپارٹی کے امیدوار قادر مندوخیل نے الیکشن کمیشن کو خط تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا کہ فیصل واوڈا نے اپنے کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کی ہے لہٰذا غلط بیانی کرنے پر انہیں نااہل قرار دیا جائے۔خط کے متن کے مطابق کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کرکے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی خلاف ورزی کی گئی، فیصل واوڈا نے عام انتخابات میں امریکی شہریت چھپائی، 22 جون 2018 کو امریکی شہرت واپس کرنے کی درخواست جمع کرائی اور امریکی قونصلیٹ نے 25 جون کو فیصل ووڈا کی درخواست منظور کرلی تھی۔خط میں بتایا گیا کہ میں نے 18 جون کو ریٹرننگ آفیسر کو اس حوالے سے درخواست دی مگر مسترد کردی گئی تھی۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کے خلاف امن ترقی پارٹی کے چیئرمین فائق شاہ کی جانب سے نااہلی کی درخواست الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی تھی۔ یاد رہے کہ جس وقت وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے 2018 کے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے، اْس وقت وہ امریکی شہری تھے اور یہ کہ ان کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرایا جانے والا حلف نامہ جعلی تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں ہے،11 جون 2018 کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے اور کاغذات کی اسکروٹنی کے وقت بھی ان کی امریکی شہریت برقرار تھی۔فیصل واوڈا نے اپنے کاغذات نامزدگی میں حلفاً کہا کہ وہ صرف پاکستانی شہری ہیں تاہم دستاویزات سے ثابت ہوا جب انہوں نے کاغذات جمع کرائے وہ امریکی شہری بھی تھے۔واوڈا کے معاملے میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 جون تھی جسے مزید تین دن کیلئے بڑھایا گیا تھا۔ واوڈا نے اپنے کاغذات 11 تاریخ کو جمع کرائے اور ایک حلف نامہ بھی جمع کرایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں ہے۔این اے 249 سے ریٹرننگ افسر نے ان کے کاغذات کی 18 جون 2018 کو منظوری دی جس کے بعد 22 جون 2018 کو فیصل واوڈا نے امریکی شہریت کی تنسیخ کیلئے شہر میں امریکی قونصل خانے میں درخواست جمع کرائی جس کا مطلب یہ ہوا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے۔اگرچہ شہریت کی تنسیخ کا عمل مختلف محکموں سے کلیئرنس کے بعد کچھ ہفتوں میں مکمل ہوتا ہے لیکن دی نیوز کے پاس دستیاب دستاویزات کے مطابق قونصل خانے کی طرف سے انہیں شہریت کی تنسیخ کا سرٹیفکیٹ 25 جون 2018 کو جاری کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…