جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

دبئی میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور بھارتی طالبہ کیلئے نجات دہندہ بن گیا ،ہندوستانی خاندان بھی گرویدہ

datetime 13  جنوری‬‮  2020 |

دبئی(این این آئی)دبئی کی سرزمین پر ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور ایک بھارتی طالبہ کو اس کے اہم ترین دستاویزات جو وہ ٹیکسی میں بھول گئی تھی، وقت پر لوٹا کر اس کے لئے نجات دہندہ بن گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے دبئی میں راشیل روز نامی بھارتی لڑکی برطانیہ سے چھٹیاں گزارنے دبئی اپنے والدین کے پاس آئی ہوئی تھی، وہ اپنی سالگرہ منانے دوستوں کے ساتھ باہر گئی

اور ایک ٹیکسی میں اپنا پرس بھول گئی۔جس ٹیکسی میں راشیل نے سفر کیا تھا اس کا ڈرائیور مدثر خادم نامی پاکستانی تھا۔کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد مدثر نے راشیل کا پرس اسے واپس لوٹا دیا جس میں راشیل کا برطانیہ کا ویزا بھی موجود تھا ۔راشیل روز کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ تھی اور جلدی میں اپنا پرس ٹیکسی میں ہی بھو ل گئی تھی جس میں اس کا برطانیہ کا ویزا سمیت وہاں کی رہائش کا پرمٹ کارڈ  اسٹوڈنٹ ویزا  ، امارات کا سٹیزن شپ کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، ہیلتھ انشورنس کارڈ، کریڈٹ کارڈ اور 10 ہزار سے زائد دیگر ممالک کی کرنسی شامل تھی ۔راشیل کا کہنا تھا کہ اپنے اتنے قیمتی کاغذات کھو دینا بہت بڑ ی پریشانی کی بات تھی، ان کاغذات کی میرے پاس کوئی کاپی بھی نہیں تھی اور اس بھول پر میرے گھر والے بھی نہایت پریشان اور مجھ سے ناراض تھے۔انتہائی اہم دستاویزات کھونے پر راشیل نے پولیس کی مدد بھی حاصل کر لی تھی کیونکہ اگلے ہی روز ان کو برطانیہ جا کر امتحان میں اپنی حاضری یقینی بنانی تھی۔پاکستانی ڈرائیور مدثر خادم کا کہنا تھا کہ لڑکی کو چھوڑنے کے بعد میں نے 2 مزید رائڈ مکمل کیں جس کے بعد مجھے احساس ہوا کے کوئی اپنا پرس بھول گیا ہے، میں نے پرس کھول کر معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ اندازہ ہو سکے کہ یہ کس کا پرس ہے۔مدثر نے مزید کہا کہ راشیل کے والد ان کے پرس لوٹانے پر بہت خوش ہوئے اور انعام کے طور پر اسے 600 درہم بھی دیئے جسے لینے سے میں نے منع کر دیا تھا اور کہا کہ راشیل میری چھوٹی بہنوں جیسی ہے مگر انہوں نے ا نعام وصول کرنے پر اصرار کیا۔‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…