اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری نے کہاہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخیاں ختم ہونی چاہئے، کم از کم ایجنڈا بنا کر حکومت اور اپوزیشن کواتفاق رائے لاکر سال کا آغاز کرنا چاہئے جبکہ سینٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق نے کہاہے کہ سینٹ کا بہت تاخیر سے بلایاگیا ہے،اتنے عرصے تک پارلیمنٹ کو بند رکھنا اور سینٹ کو تالے لگانا درست نہیں،بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے پر بات کر نے کی ضرورت ہے۔
بدھ کو چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی کی زیر صدار ت ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ سینیٹ کا اجلاس بلانے میں بہت تاخیر کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن جمع کروائی،ریکوزیشن جمع کرنے کے دو دونوں کے اندر ہی جلدی میں حکومت نے اجلاس بلایا۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کی ریکوزیشن میں چھ نکات شامل تھے،آرڈینسز کے بارے میں سینیٹ کو اندھیرے میں رکھ کر صرف قومی اسمبلی میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کو 144دن گزر گئے ہیں،خواتین اور بچوں سمیت کشمیریوں کو بیدردی سے شہید کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر فوری طور پر اجلاس بلانا چاہیے تھا،ملک میں سیاسی انتقام اپنی عروج پر ہے۔انہوں نے کہاکہ ان ایشوز پر ایوان میں سیر حاصل بحث ہونا ضروری تھا،فوری طور پر اجلاس بلانے کا مقصد منفی سوچ ہے،اجلاس جے ایجنڈے میں اپوزیشن کی بجائے حکومت کے ایجنڈے کو لانا تھا،اتنے دن پارلیمنٹ کو بند رکھنا اور سینیٹ کو تالا لگا کے رکھنے سے اچھی روایت قائم نہیں ہوئی،اس سے ایک آئینی مسئلہ بھی پیدا کیا ہے۔سینیٹر میاں محمد رضا ربانی نے کہاکہ آئین موجود بھی ہے اور نہیں بھی،آئین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہاکہ شاید جنرل ضیاء کی شوری کی اہمیت اور فوقیت زیادہ تھی،دو سیشن کے درمیان آئین کے تحت 120دن سے زیادہ وقت نہیں گزرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے بلایا گیا دن 3ستمبر کو بلایا گیا،اجلاس بلائے ہوئے121واں دن گزر چکے،آئین میں معینہ دورانیے سے بھی تجاوز کیا،آپ کے کہنے پر بھی حکومت نے اجلاس نہیں بلایا،کھیل کود کیلئے اجلاس بلانے کیلئے نہیں کہا جا رہا،پارلیمنٹ کے استحقاق کو مجروح کیا گیا،اکتوبر سے دسمبر کے آخر تک 16آرڈیننسز لائے گئے،ایوان صدر کو آرڈیننس میں تبدیل کیا گیا،کوئی صدر سے پوچھ سکتا ہے کہ آپ نے سینیٹ کا اجلاس کیوں نہیں بلایا؟،کیا آپ صرف آرڈیننسز پر دستخط کرنے کیلئے بیٹھے ہیں،
کیاحکومت کی جانب سے عدالتی فیصلے کو چیلنج کر سکتی ہے؟،کیا اس سے وفاق پاکستان کے منافی نہیں؟کیاآئین توڑنے والے کو سزا نہیں ہونی چاہیے،کشمیر کے معاملے پر تین ممالک نے سپورٹ کیا۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے پاکستان کی بالادستی کو گروی رکھ کر سعودی عرب کے کہنے پر کولالمپور سمٹ میں شرکت نہیں کی،فوج کیلئے اپنانظام،عدلیہ کیلئے اپنا قانون،نیب آرڈیننس سے بیوروکریٹ اور صنتکاروں کیلئے الگ نظام،نیب صرف سیاستدانوں کا احتساب کریگا،پھرسیاستدانوں کو اپنے احتساب کے بارے میں الگ نظام کے
بارے سوچنا ہو گا،کیسی حکومت ہے جو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے چار نوٹیفکیشن جاری کرے اور وہ بھی غلط۔ مولانا عبد الغفور حیدری نے کہاکہ سینیٹ کا اجلاس اتنی تاخیر سے بلایا گیا کہ ہم ایک دوسرے کی شکلیں بھی بھول گئے،ہم نے آپ کو بڑے مشکلوں سے پہچانا۔چیئرمین سینیٹ نے عبدالغفور حیدری کو جواب دیا کہ یہی حال میرا بھی ہے۔غفور حیدر ی نے کہاکہ سال نو کی جو مبارک ا ٓپ نے دی اس کو قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سال کے آغاز پر ہی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرکے ڈرون بم گرایا گیا، سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے
خلاف فیصلے کی صحیح یا غلط کا فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا چاہئے تھا،اس پر آئی ایس پی آر کی جانب سے ردعمل آیا۔انہوں نے کہاکہ کولالمپور سمٹ میں عدم شرکت کی وجوہات سے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا جانا چاہیے،نیب قوانین کالے،ہم تو اس ادارے کے ہی خلاف ہیں،جب عدالتیں موجود ہیں تو ایسے اداروں کی ضرورت نہیں،ملک میں جو مہنگائی ہے اس پر ایوان میں بحث ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ مارشل لاء اور جمہوریت میں فرق ہی یہی ہوتا ہے کہ جمہوریت میں ادارے فعال ہوتے ہیں مگر پارلیمنٹ مفلوج ہے۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت آگے بڑھنے سے پہلے 365دنوں کا حساب دے،
سینیٹ نے عوام کے مفاد میں کونسی قانون سازی کی ہے،اگر قانون سازی نہ کر سکی تو اس میں قصور حکومت کا ہے،حکومت ایک دن تو عام شہری کو سکون سے گزارنے دیتی۔ انہوں نے کہاکہ مزدوردن بھر محنت مشقت کرنے کے باوجو د اس کے بچے بھوکے سوتے ہیں،خارجہ محاذ پر ہم نے کیا کیا اسکا جائزہ لینا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے وزیر اعظم نے ملائیشیا اور ترکی کو ساتھ لیکر چلنے کا عہد کیا تھا،کولا لمپور سمٹ میں پاکستان کی کرسی خالی تھی،پاکستان کو بہت شرمندہ ہوئی،147دن گزرنے کے باوجود کشمیر کی صورتحال مخدوش ہے،تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک وزیر اعظم نے اپنے اداروں کے خلاف تقریر کی،انہوں نے کہاکہ
پرویز مشرف کو سب سے پہلے عمران خان نے غدار قرار دیا تھا،قوم کا ایک روپیہ ہو یا ایک ارب برابر ہے،نئے نیب آرڈیننس میں حکومت نے پچاس کروڑ حرام تک کی اجازت دی۔وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہاکہ پچھلے سال کا سورج اپنی تلخیوں کے ساتھ اختتام ہو چکا ہے،آپ نئے سال کا آغاز پچھلے سال سے مختلف ہونے چاہئیں،پارلیمنٹ کے دو حکومت اور اپوزیشن ہیں۔انہوں نے کہاکہ پارلیمان سے باہر دو ادارے موجود ہیں جو کہ عدلیہ اور فوج ہیں،ان اداروں کے مابین توازن رکھنے کیلئے آئین موجود ہے،ہمارے ادارے نہ تو قصوروار ہیں اور نہ ہی بری الذمہ ہیں،ان اداروں سے غلطیاں بھی ہوئی ہونگی۔انہوں نے کہاکہ
پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی پچیس سال سے کم نوجوانوں پر مشتمل ہیں،ہمیں کم از کم اتفاق رائے پیدا کرنے ہوں گے،سو فیصد اتفاق رائے ممکن نہیں۔ انہوکں نے کہاکہ ٹرمپ کے مطابق الکور نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ملک کی وسیع تر مفاد میں تسلیم کیا۔انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے ممبران،احتساب کے عمل،فوج کے قوانین پر اتفاق رائے ہو سکتی ہیں،عدالتیں قابل احترام،سیاستدانوں کا احتساب کرتی ہیں،خود ججز پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں آنے کو تیار نہیں،عدالت پرویز مشرف کو سزا تو دیتی ہے مگر پی سی او ججز کو تحفظ دیتی ہے،نئے سال کا آغاز خوشگوار اندار میں کرنے چاہئیں۔سینیٹر فیصل جاویدنے کہاکہ جب اقتدار ملا تو ملک سخت خسارے میں تھا،پیسہ منی لانڈرنگ کے زریعے باہر بھیجا گیا۔ انہوں نے کہاکہ آج موڈیز کی رینکنگ، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف ہماری معیشت پر مطمئن ہوں۔ انہوں نے کہاکہ اللہ تعالی وزیراعظم کو زندگی انہوں نے بہت سی ناممکن چیزوں کو ممکن بنایا۔
سینٹر فیصل جاوید کی تقریر کے دوران بہرامند تنگی نے شورشرابہ شروع کر دیا۔فیصل جاوید نے بہرامند تنگی کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ میں نے کسی کا نام نہیں کیا، چور کی داڑھی میں تنکا۔ چیئر مین سینٹ نے بہرام مند تنگی کو ہدایت کی کہ آپ سینٹ کا ماحول خراب بہ کریں۔سینیٹر فیصل جاویدنے کہاکہ وزیراعظم کا مشن پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ ہے،ہم کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان کیجانب سے قائم پناہ گاہوں کا سب وزٹ کریں۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے اجلاس ضرور ہونے چاہئیں لیکن یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وزیراعظم کی پہلی تقریر میں کہا گیا حکومت فیل ہوگئی،یہاں پر اپوزیشن پروڈکشن آرڈر کے لیے شور مچاتی ہے،جس نے ملک لوٹا اس کا احتساب ناگزیر ہے۔اجلاس کے دور ان آڈٹ سال19-2018 کی آڈٹ رپورٹس ایوان میں پیش کی گئی اس دور ان سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان کی مالی سال 17-2016 رپورٹ ایوان بالا میں پیش کی گئیں دونوں رپورٹس وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر نے پیش کی۔اجلاس کے دور ان جغرافیائی علامات اندراج تحفظ بل 2019ء،غیر ملکی زرمبادلہ انضباط ترمیمی بل 2019،اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل2019 ایوان میں پیش،بل وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے پیش کئے،چیئر مین نے بل متعلقہ کمیٹیوں میں بھجوا دئیے۔



















































