اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما مشاہد حسین سید نے کہاہے کہ موجودہ حکومت نے آغاز میں سی پیک کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیئے جس سے ابہام پیدا ہوا ،پھر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کر داراد کیا ،اب راہداری منصوبہ پٹڑی پر چڑھ گیا ہے ، پہلا فیز کامیابی سے مکمل ہوگیا ہے جس کے ذریعے 75ہزار پاکستانیوں کو نوکریاں ملیں اور 28ہزار پاکستانی چین میں
تعلیم حاصل کررہے ہیں ، نئے پراجیکٹ میں چین نے ایک ارب ڈالر کی گرانٹ بطور تحفہ دی ہے جس سے سوشل سیکٹر میں ڈویلپمنٹ ہوگی،تعلیم ، صحت ، پانی ، زراعت کے شعبے میں ترقی ہوگی ،پچاس نئے ہسپتال بنیں گے اور مرمت بھی ہوگی ، تیس ووکیشنل انسٹیٹیوٹ بنیں گے ، نو مبر میں چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ بھی ہوچکا ہے ، چین نے پاکستان کو دو سال کیلئے دوارب ڈالر کی چھوٹ بھی دہے ، تجارت میں جو عدم تواز ن تھا وہ بیلنس ہو جائیگا ۔بدھ کو یہاں’’ این این آئی ‘‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ پاکستان چین راہداری منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعلقات کا محور ہے ، یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم سٹریٹجک منصوبہ ہے اس کا تعلق کسی ایک صوبہ ، کسی ایک پارٹی یا کسی ایک شخص سے نہیں یہ قومی سٹریٹجک منصوبہ ہے جس میں مکمل اتفاق رائے ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مجھے افسوس ہے جب سے یہ حکومت آئی ہے شروع میں انہوںنے نالائقی کی اور انہیں سمجھ بھی نہیں تھی اور پھر انہوں نے غیر ذمہ دارانہ بیان دیئے جس کے باعث ابہام اور کنفیوژن پیدا ہوگئی اور کرپشن کے بے بنیاد الزامات بھی لگائے گئے حالانکہ ایک ڈھیلے کی کرپشن سی پیک منصوبہ میں نہیں ہوئی ۔انہوںنے کہاکہ اس صورتحال میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کردار ادا کیا اور وہ خود چین گئے ، صدر شی جن سے ملے اور ان کی تسلی بھی دی
اور کہافکر نہ کریں ہم ضامن ہیں ۔ مشاہد حسین سید نے کہاکہ ہم نے پارلیمنٹ میں حکومت کو کہا آپ ایسانہ کریں اور اس منصوبہ کو سیاست کی خاطر خراب نہ کریں ،اس کے بعد وزیر اعظم نے چین کے دورے کئے اور پھر صورتحال میں بہتری آئی۔انہوںنے بتایاکہ پانچ نومبر کو مشترکہ کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تھی اور سی پیک دوسرے فیز میں داخل ہوگیا ہے ،پہلا فیز کامیابی سے مکمل ہوگیا ہے ،75ہزار افراد کو
نوکریاں ملی ہیں ،28ہزار پاکستانی سٹوڈنٹ تعلیم حاصل کررہے ہیں ، بیس ہزار طالبم علموں کو سکالر شپس کی آفر ہوئی ہے اور یہ آفر تین سالوں میں لڑکیاں اور لڑکوں دونوں کو ہوئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ اب نئے پراجیکٹ میں چین نے ایک ارب ڈالر کی گرانٹ بطور تحفہ دی ہے جس سے سوشل سیکٹر میں ڈویلپمنٹ ہوگی ، تعلیم ، صحت ، پانی ، زراعت ،وکیشنل ٹریننگ اور پچاس نئے ہسپتال بنیں گے
اور مرمت بھی ہوگی اور تیس ووکیشنل انسٹیٹیوٹ بنیں گے اب سی پیک پٹڑی پر چڑھ گیا ہے اور اس منصوبہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی ۔انہوںنے بتایاکہ نو مبر میں چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ ہوا ہے اور تجارت میں جو عدم توازن تھا وہ بیلنس ہو جائیگا ۔انہوںنے کہاکہ چین نے پاکستان کو دوسال کیلئے دو ارب ڈالر کی چھوٹ بھی دی ہے آپ کے چین کیلئے جو ایکسپورٹ ہیں ان کو ڈیوٹی فری کرینگے ان آئٹمز سے ہماری ایکسپورٹ مزیدبڑھے گی ۔



















































