ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

پی ٹی آئی حکومت کی پنجاب میں کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھ گئے ، ن لیگ نے وائٹ پیپر جاری کر دیا

datetime 30  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی )مسلم لیگ (ن) پنجاب نے محکمہ تعلیم کی سال 2019کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کردیاپنجاب کی سیکرٹر ی اطلاعات عظمیٰ بخاری کی جانب سے جاری کئے گئے وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ 2019 میں محکمہ سکول ایجوکیشن کے اعلان کردہ متعدد منصوبے مکمل نہ ہوسکے۔ پنجاب کے 6بورڈ میں سیکرٹریز اور تین میں کنٹرولز ز کی سیٹیں خالی ہیں۔

داخلوں کے اہداف پورے نہ ہو نے سے16 لاکھ بچے تعلیم سے محروم رہے۔ لاہور میں 83 ہزار بچے سکولوں میں کم داخل ہوئے۔پنجاب میں رحیم یار خان سب سے پیچھے رہا، ایک لاکھ 34 ہزار بچھے سکول نا جا سکے۔پنجاب کے کسی ضلع نے بچوں کے داخلے کے اہداف پورے نہیں کیے۔آن لائن اساتذہ کے تبادلوں کا سسٹم زائد درخواستیں اپ لوڈ ہونے کی وجہ سے بیٹھ گیا۔ایک سال میں کریکلم بورڈ کے پانچ چیئر مین تبدیل کردئیے گئے۔ لاہور کے سرکاری سکولوں میں صاف پانی کے منصوبے کا اعلان کیا گیا مگر منصوبہ مکمل نہ ہو۔ سکولوں کو سولر سسٹم نصب کرنے کا منصوبہ اس سال بھی مکمل نہ ہوسکا۔ صوبے کے 10 ہزار سکولوں میں سولر پلیٹس لگائی جانی تھیں تاہم یہ منصوبہ بھی التوا کا شکار ہے۔پنجاب میں کے سرکاری سکولوں میں پہلے سے چلنے والی سیکنڈ شفٹ کو انصاف سکول کا نام دے دیا۔ صوبے کے 11 اضلاع کے 110 سکولوں کو ماڈل سکولز میں تبدیل کرنے کے منصوبہ التواء کا شکار رہے۔ 35 ہزار پرائمری سکولوں میں خاکروب کی سیٹیں اس سال بھی خالی رہیں۔ پنجاب بھر میں اساتذہ کی گریڈ 14 سے 16 کے 50 ہزار سے زائد ساتذہ کی اسامیاں خالی ہیں۔16ماہ میں پنجاب حکومت1بھی نیا سکول نہ بناسکی۔آن لائن تبادلوں کے سسٹم سے ایک بھی ٹیچر کا تبادلہ ممکن نہیں ہو سکا۔سرکاری سکولوں کے نتائج انتہائی تشویشناک رہے ۔والدین نے بچے سرکاری سکولوں سے ہٹاکر پرائیویٹ سکولوں میں داخل کرانے شروع کردیے۔سکول ایجوکیشن پارلیسی صرف کاغذوں تک محدود گرائونڈ پر حقائق مختلف ہیں۔یکساں نصاب اور یکساں نظام تعلیم کا وعدہ 16ماہ میں بھی وفا نہ ہوسکا۔دانس سکولز جو صرف مستحق بچوں کیلئے تھے ان کا بجٹ بھی مزید کم کردیا۔میٹرک کی کتابوں میں پاکستان کے نقشے سے کشمیر کو نکالنا بھی بزدار حکومت کا ہی کارنامہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…