ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کا کونسا شہر سیاست اور تعلیم کے میدان میں نمبر ون پرہے؟ بڑا دعویٰ کر دیا گیا

datetime 25  دسمبر‬‮  2019 |

راولپنڈی (آن لائن) وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ اپوزیشن اگر مہنگائی اور بیروزگاری کیخلاف نکلتی تو میں بھی ان کے جلوس میں شامل ہوتا، پیپلز پارٹی راولپنڈی میں جلسہ ضرور کرے مگر یہ لوگ اپنی لوٹی ہوئی دولت بچانے کے لئے نکلے ہیں، عمران خان نہیں بلکہ اپوزیشن کی سیاست گھر جا رہی ہے، دنیا کے کسی قانون میں نہیں کہ ایک لاش کو تین دن تک لٹکانے کا فیصلہ دیاجائے، عدلیہ کا احترام کرتے ہیں مگر یہ فیصلہ مجھے کھٹک رہاہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا کیونکہ ہماری بیٹیاں پڑھی لکھی ہیں اور پاکستان بھر میں راولپنڈی لڑکیوں کی تعلیم میں پہلے نمبر پر ہے، ہم یہ ثابت کریں گے کہ ہم سیاست میں بھی نمبرون ہیں اور راولپنڈی آج بھی سیاست کے حوالے سے بھی بہت اہم شہر ہے، راولپنڈی میں پاکستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول ہے۔ دوسری طرف ہمارا تمام ڈپلومیٹ اسلام آباد میں ہے جس کے دامن میں راولپنڈی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی نے ہمیشہ چوروں، لٹیروں، ڈاکوؤں اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کو شکست دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ آزادی صحافت کے لئے باہر نہیں نکلے بلکہ لوٹی دولت بچانے کے لئے باہر نکل رہے ہیں اگر یہ لوگ مہنگائی اور بیروزگاری کے لئے باہر نکلتے تو میں بھی ان کے جلو میں شامل ہو جاتا۔ یہ اپوزیشن والے اپنی دولت بچانے کے لئے چیخ چلا رہے ہیں تاکہ ان سے لوٹی گئی دولت کا کوئی نہ پوچھے اگر ان کااحتساب نہ ہوا تو جمہوریت نامکمل رہے گی۔ عمران خان کا نام احتساب خان ہے کیونکہ وہ لوٹی ہوئی دولت واپس لینا چاہتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ آج ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مسیحی بھائیوں کے لئے خصوصی ٹرین چلائی مگر پھر بھی جگہ کم پڑ گئی اور ان کو چھتوں پر بیٹھ کر جانا پڑا جس پر میں ان سے معافی چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹرین یکم جنوری تک چلے گی، سڑکوں پر دھند ہونے کے باوجود ہماری 138ٹرینیں چل رہے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے

عمران خان کے دور میں ریلوے نمبر ون بنے گا اور تین چار ماہ میں اس کی ایسی بنیاد رکھی جائے گی کہ دنیا میرے مرنے کے بعد بھی میرے کام کو یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت بہت حساس حالات چل رہے ہیں میں نہ پنڈت ہوں نہ جوتشی ہوں مگر جب اپوزیشن کے چہرے دیکھتا ہوں تو ان کے کرتوت پڑھ لیتا ہو ں اور آج پھر کہتا ہوں کہ یہ کل جا رہے ہیں۔ بلاول نے خط میں لکھا ہے کہ ہمیں پکڑا گیا تو ہم خوفناک بن جائیں گے ہمیں کسی نے چھوا تو ہم سارے ملک میں چھوت لگا دیں گے اور بلاول نے کہا ہے کہ مجھے پانچ جنوری تک مہلت دی جائے، 23 سال کے بچے نہیں ہوتے مگر یہ ساری عمر بچے ہی رہیں گے اس لئے کہتا ہوں کہ بچ کے رہو۔ اگر بچے ہو تو بچ کے کھیلو۔

انہوں نے کہا کہ ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں جب عدلیہ ختم ہو جاتی ہے تو جنگل کا قانون آجاتا ہے اور ہمیں عدلیہ کے تلخ فیصلے بھی قبول ہیں اور ہم اسے بھی انصاف سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک فیصلہ جو مجھے کھٹک رہا ہے وہ کہتا چاہتاہوں کہ دنیا کے کسی بھی انصاف کے نظام میں کو لاش کو لٹکایا نہیں جاتا، گھسیٹا نہیں جاتا اور تین دن تک لٹکایا نہیں جاتا باقی عدلیہ نے جو بھی فیصلہ دینا ہے دے مگر ایسے فیصلے نہ دے۔ ہم راولپنڈی میں بلاول کو جلسہ کرنے پر ویلکم کرتے ہیں مگر جب آپ راولپنڈی آئیں گے تو میں لاڑکانہ جلسہ کرنے آؤں گا۔ میں پیپلز پارٹی کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم شرافت کی سیاست کرتے ہیں اور آپ ہمارے لئے قابل احترام ہیں آپ ضرور جلسہ کریں۔ دوسری بات یہ ہے کہ رانا ثناء اللہ اور احسن اقبال کے مسئلے پر لیگل ٹیم جواب دے گی۔ مگر آپ یہ جان لیں کہ عمران خان نہیں بلکہ آپ کی سیاست جا رہی ہے۔ ہمارے سٹائل آپ کی وجہ سے ہیں اگر پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے نہ لوٹا ہوتا تو آج مہنگائی اور بیروزگاری نہیں ہوتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…