جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تند و تیز طوفانوں کا رخ موڑنے کے لیے عالمِ اسلام کو ہومیو پیتھک نہیں فولادی اعصاب والی قیادت درکار ہے، انتہائی اہم تجویز دیدی گئی

datetime 23  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور (آن لائن) تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کی عظمت رفتہ بحال کرنے کی خاطر کوالالمپور کانفرنس روشن مستقبل کی طرف ایک قدم ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تند و تیز طوفانوں کا رخ موڑنے کے لیے عالمِ اسلام کو ہومیو پیتھک نہیں فولادی اعصاب والی قیادت درکار ہے۔ لاس اینجلز سے لے کر دہلی تک مسلمانوں پر زمین تنگ کی جا رہی ہے۔

مسلم دنیا کے علیحدہ بلاک کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ مہاتیر محمد اور طیب اردگان کے کندھے کے ساتھ دیگر مسلم حکمران بھی کندھا ملائیں تو ایک مضبوط، خود کفیل اور خود مختار اسلامی بلاک تشکیل پا سکتا ہے۔ غیر مسلم ممالک اسلامی دنیا کے قدرتی وسائل اور پیسے کے ذریعے مسلمانوں ہی پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران اپنے اپنے مفادات کی بجائے امت مسلمہ کے مفادات کی خاطر مسلم دنیا کے متحدہ بلاک کے لیے کردار ادا کریں۔ امت مسلمہ کے یونائیٹڈ بینک، آرمی، میڈیا کے لیے جد وجہد از حد ضروری ہے۔ اسلامی بینک کے قیام کے ذریعے ورلڈ بینک کے ہوش ٹھکانے لگائے جا سکتے ہیں۔ اسلامی معاشی اصولوں پر استوار ہونے والی معیشت کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ مسلم میڈیا اور ذرائع ابلاغ امت مسلمہ کی فکری تیاری اور ذہنی ہم آہنگی میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یونائیٹڈ مسلم آرمی کا قیام دنیا بھر کے بے سہارا مسلمانوں کے لیے تقویت کا باعث ہو سکتی ہے۔ کوالمپور کانفرنس میں جن خطوط پر غور کیا گیا اس پر مسلسل آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں پاکستان کی عدم دلچسپی نقصان کا باعث بنی ہے۔ مسلم دنیا باہمی تجارت کے ذریعے غیروں پر انحصار ختم کر سکتی ہے۔ او آئی سی کے کردار کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ فلسطین، مقبوضہ کشمیر اور برما کے مسلمانوں کی کسمپرسی پر او آئی سی نے کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کیا۔ اب بھارتی مسلمانوں کی بھارت سے بے دخلی اور بابری مسجد کے مسئلہ پر بھی او آئی سی صرف تشویش کے ایک بیان پر ہی صبر کر لے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…