جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

حکومتی خزانے کو چُونا لگانے والے افسران و ایجنٹ مافیا تحقیقاتی اداروں کے ریڈار میں آ گئے، جعلی منصوبوں کو ٹھکانے لگانے کیلئے خفیہ کمیٹی تشکیل دینے کا دھماکہ خیز انکشاف

datetime 23  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) ترقیاتی کاموں کے نام پر حکومتی خزانے کو ایک ارب سے زائد کا چونا لگانے کے سہو لت کار افسران اور ایجنٹ مافیا تحقیقاتی اداروں کے ریڈار پر آگئے،کے ڈی اے نے سیکریٹری بلدیات کی مبینہ ہدایت پر بنائی گئی ٹینڈر کمیٹی سے لاعلمی اور ٹھیکوں کے تمام عمل(پروسیز) کو بوگس قرار دیدیا،مبینہ جعلسازی سے بوگس ٹینڈرنگ کر کے ترقیاتی کاموں کے ورک آرڈر جاری کرنے والے افسران کیخلاف جلد بڑی کارروائی کا امکان،

ایجنٹ مافیا اور محکمہ بلدیات کے سہولت کار افسران کی نیندیں اڑ گئیں،انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق کے ڈی اے میں 80کروڑ لاگت کے10ترقیاتی کام جنہیں مبینہ جعلسازی سے بوگس ٹینڈرنگ کرکے ایک ارب سے زائد تک پہنچا کر ٹھکانے لگایا گیا تھا اس میں ملوث محکمہ بلدیات، بلدیہ عظمی کراچی اور کے ڈی اے افسران کے علاوہ ایجنٹ مافیا کیخلاف تحقیقاتی ادارے حرکت میں آگئے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ سنگین جعلسازی میں ملوث افسران کے حوالے سے سندھ حکومت کے اعلی حکام کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ کارروائی کیلئے تحقیقاتی اداروں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں،یاد رہے کہ 80کروڑ لاگت کے 10ترقیاتی منصوبے جعلسازی کے ذریعے ٹھکانے لگانے کیلئے محکمہ بلدیات سندھ کی جانب سے ایک لیٹر نمبر SO(G)/HTP/KDA/8-165/2019 کے ذریعے ایک4 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جسے انتہائی خفیہ رکھا گیا،ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمیٹی سابق ڈی جی کے ڈی اے بدر جمیل میندھرو کے دور میں ان کی سفارشات کی روشنی میں بنائی گئی جس کے لئے ان کے بھیجے گئے لیٹر جس کا حوالہ دیا گیا تھا اس کا نمبر DG/EnggDeptt/KDA/4871/2019 ہے،مذکورہ ٹینڈر کمیٹی میں دو کے ڈی اے اور دو کے ایم سی کے افسران کو شامل کیا گیا جس میں کے ایم سی کے ایکسئن ظہیر عباس اور اکاؤنٹ آفیسر حسین علی جعفری کو شامل کیا گیا جبکہ کے ڈی اے کے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر سید محمد رضا اور سب انجینئر طلعت بھٹی کا نام شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…