بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ڈینگی پر قابو پانے کیلئے پاکستان میں تیزی آگئی حکومت آسٹریلیا سے کونسی چیز لینے کا فیسلہ کر لیا

datetime 23  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)حکومت نے 2020 کے مزید مہلت ہونے کے خدشے کے پیش نظر ڈینگی پر قابو پانے کے لیے  حاصل کرنے کا فیصلہ رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ فروری 2020 سے ہی حفاظتی اقدامات شروع کیے جائیں گے تاکہ ڈینگی مچھر کا لاروا نہیں پھیل سکے۔واضح رہے کہ رواں سال 53 ہزار 805 ڈینگی کے کیسز سامنے آئے

جن میں سے 95 افراد کی اموات ریکارڈ کی گئی۔ دستیاب دستایوز کے مطابق اسلام آباد سے 13 ہزار 292 کیسز رپورٹ کیے گئے، اس کے علاوہ دیگر مقامات میں سندھ سے 16 ہزار 657، پنجاب سے 10 ایک سو 118، خیبرپختونخوا سے 7 ہزار 876، بلوچستان سے 3 ہزار 474، آزاد جموں کشمیر سے ایک ہزار 690 اور 696 کیسز ‘دیگر’ کٹیگری کے شامل تھے۔کچھ کیسز میں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مچھر نے کس صوبے میں مریض کو کاٹا تھا، لہٰذا ایسے کیسز کو ‘دیگر’ کی کٹیگری میں رکھا گیا۔ڈینگی کے باعث صوبہ سندھ میں 46 افراد، اسلام آباد میں 22، پنجاب میں 23، بلوچستان میں 3 اور آزاد کشمیر میں ایک شخص جاں ہوا۔اس حوالے سے قومی ادارہ برائے صحت (این آئی ایچ) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجرجنرل ڈاکٹر عامر اکرم نے بتایا کہ رواں سال کے کیسز اور اموات پر غور کرتے یہ فیصلہ کیا گیا ‎ کہ پیش گوئی کرنے والے اس ماڈل پر توجہ دی جائے گی جس کا استعمال یہ معلوم کرنے کے لیے ہوتا ہے کہ آئندہ برس کا صورتحال ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پیش گوئی کرنے والے ماڈل پر تربیت کے لیے ٹیمز برطانیہ بھیجی تھیں اور اب ہمیں یہ پختہ یقین ہے کہ اگر تمام صوبائی حکومتیں بروقت اقدامات کرتی ہیں تو ڈینگی کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ علاوہ ازیں ہم نے ڈینگی کنٹرول کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر تربیت کے حصول کے لیے ٹیموں کو

آسٹریلیا بھی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، مارچ 2020 سے ہم ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کریں گے کیونکہ آسٹریلیا نے بھی ٹیکنالوجی کی منتقلی پر اتفاق کیا تھا۔ڈاکٹرعامر اکرم کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا نے ایک ‘وولباچیا’ نامی ایک جراثیم (بیکٹریا) تیار کیا تھا جسے مچھر میں منتقل کیا جاتا ہے، ایک مرتبہ وولباچیا مچھر کے اندر منتقل ہوجاتا ہے تو وہ نسل در نسل اس کے ڈی این اے میں رہتا ہے اور وہ اسے ڈینگی کو انسانوں میں منتقل نہیں کرنے دیتا۔وولباچیا ایک گرام نیگیٹو (منفی) جراثیم کی نسل ہے جو کیڑوں کی بڑی تعداد اور کچھ راؤنڈ وارم سمیت آرتھوپوڈ پرجاتیوں کو متاثر کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…