جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

حکومت کی جانب سے شریف خاندان کو بڑا ریلیف، 90 کروڑ کی ادائیگی کے بغیر کس کام کی اجازت دیدی؟ رکاوٹ بننے والے اعلیٰ افسر کا بھی تبادلہ کر دیاگیا

datetime 18  دسمبر‬‮  2019 |

چنیوٹ(آن لائن) حکومت پنجاب نے کسانوں کے 90 کروڑ روپے کی ریکوری کئے بغیر شریف خاندان کی ملکیتی رمضان شوگر مل کو کرشنگ سیزن شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے یہ اجازت چیف سیکرٹری پنجاب اعظم سلیمان کے زبانی حکم پر دی گئی ہے ۔ سابق اسسٹنٹ کمشنر بھوانہ عدنان نے کسانوں کے نوے کروڑ سے زائد کے بقایا جات کی ادائیگی کے بغیر اس سال مل انتظامیہ کو کرشنگ سیزن شروع کرنے سے منع کردیا تھا

اورمل پرپولیس تعینات کردی تھی جبکہ کسانوں سے بدتمیزی کرنے اور ادائیگی نہ کرنے پررمضان شوگر مل کے منیجروں اورمالکان کیخلاف 54 ایف آئی آر بھی درج کرائی تھیں تاہم نئے تعینات ہونے والے چیف سیکرٹری کیپٹن ریٹائرڈ اعظم سلیمان نے چارج سنبھالتے ہی اسسٹنٹ کمشنر بھوانہ عدنان کو ٹرانسفر کردیا ہے اور پھررمضان شوگر مل کو کرشنگ سیزن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے حکومت پنجاب کا یہ حکم شوگر ایکٹ کی واضح خلاف ورزی ہے پنجاب کا کین کمشنر واجد بخاری بھی اس سلسلے میں شریف خاندان کی غلامی کرتے رہے ہیں اورریونیو ایکٹ کے تحت کسانوں کے نوے کروڑ بقایا جات کی ادائیگی کو یقینی نہیں بنا سکے چیف سیکرٹری عظیم سلیمان بھی شریف خاندان کے مفادات کے تحفظ میں مشہور ہیں اورذاتی غلام بن کر شہباز شریف کے لئے خدمات سرانجام دے رہا ہے اعظم سلیمان نے ساری زندگی نوکری شہباز شریف کی حکومت میں کررکھی ہے اور جب سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا تھا اس وقت یہ صاحب ہوم سیکرٹری پنجاب تھے یہ افسر شریف خاندان کے مفادات کاتحفظ اور غلامی کو اپنا فرض اعلیٰ سمجھتے ہیں اس لئے شہباز شریف اپنے غلام کی طرح مفادات کا تحفظ کرنے والے دیگر افسران کی طرح سلیمان کو بھی اہم اور منافع بخش عہدوں پر فائز کئے رکھا ہے پنجاب کے وزیراعلیٰ بزدار جو نالائقی میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں وہ بھی غریب کسانوں کے بقایا جات ادا کروانے میں ناکام ہوگئے ہیں جبکہ مقامی سیاستدان بی بی بھروانہ اور اس کی ان پڑھ ماں سلیم بی بی بھروانہ کو کسانوں کے بقایا جات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے

ان دونوں ماں اور بیٹی کو اسمبلیوں میں کسانوں کے بقایا جات کی ادائیگی کا مسئلے اٹھانے کی ہمت ہیں ہورہی ہے اب تو چیف سیکرٹری بھی شریفوں کے غلام ثابت ہورہے ہیں اورکسانوں کے بقایا جات کی ادائیگی کے بغیر اپنے سابق سردار شہباز شریف کے مفادات کے تحفظ میں مشہور ہیں جبکہ چنیوٹ انتظامیہ کے اعلیٰ افسران پہلے ہی کرپشن میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں مقامی کسانوں نے استدعا کی ہے کہ اگر مل انتظامیہ کو بقایا جات کی ادائیی تک کرشنگ سیزن شروع نہ کرنے کا پابند بنایاجائے تو یہ ادائیگیاں ایک دن میں ہوسکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…