جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

حکومت کی جانب سے شریف خاندان کو بڑا ریلیف، 90 کروڑ کی ادائیگی کے بغیر کس کام کی اجازت دیدی؟ رکاوٹ بننے والے اعلیٰ افسر کا بھی تبادلہ کر دیاگیا

datetime 18  دسمبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چنیوٹ(آن لائن) حکومت پنجاب نے کسانوں کے 90 کروڑ روپے کی ریکوری کئے بغیر شریف خاندان کی ملکیتی رمضان شوگر مل کو کرشنگ سیزن شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے یہ اجازت چیف سیکرٹری پنجاب اعظم سلیمان کے زبانی حکم پر دی گئی ہے ۔ سابق اسسٹنٹ کمشنر بھوانہ عدنان نے کسانوں کے نوے کروڑ سے زائد کے بقایا جات کی ادائیگی کے بغیر اس سال مل انتظامیہ کو کرشنگ سیزن شروع کرنے سے منع کردیا تھا

اورمل پرپولیس تعینات کردی تھی جبکہ کسانوں سے بدتمیزی کرنے اور ادائیگی نہ کرنے پررمضان شوگر مل کے منیجروں اورمالکان کیخلاف 54 ایف آئی آر بھی درج کرائی تھیں تاہم نئے تعینات ہونے والے چیف سیکرٹری کیپٹن ریٹائرڈ اعظم سلیمان نے چارج سنبھالتے ہی اسسٹنٹ کمشنر بھوانہ عدنان کو ٹرانسفر کردیا ہے اور پھررمضان شوگر مل کو کرشنگ سیزن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے حکومت پنجاب کا یہ حکم شوگر ایکٹ کی واضح خلاف ورزی ہے پنجاب کا کین کمشنر واجد بخاری بھی اس سلسلے میں شریف خاندان کی غلامی کرتے رہے ہیں اورریونیو ایکٹ کے تحت کسانوں کے نوے کروڑ بقایا جات کی ادائیگی کو یقینی نہیں بنا سکے چیف سیکرٹری عظیم سلیمان بھی شریف خاندان کے مفادات کے تحفظ میں مشہور ہیں اورذاتی غلام بن کر شہباز شریف کے لئے خدمات سرانجام دے رہا ہے اعظم سلیمان نے ساری زندگی نوکری شہباز شریف کی حکومت میں کررکھی ہے اور جب سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا تھا اس وقت یہ صاحب ہوم سیکرٹری پنجاب تھے یہ افسر شریف خاندان کے مفادات کاتحفظ اور غلامی کو اپنا فرض اعلیٰ سمجھتے ہیں اس لئے شہباز شریف اپنے غلام کی طرح مفادات کا تحفظ کرنے والے دیگر افسران کی طرح سلیمان کو بھی اہم اور منافع بخش عہدوں پر فائز کئے رکھا ہے پنجاب کے وزیراعلیٰ بزدار جو نالائقی میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں وہ بھی غریب کسانوں کے بقایا جات ادا کروانے میں ناکام ہوگئے ہیں جبکہ مقامی سیاستدان بی بی بھروانہ اور اس کی ان پڑھ ماں سلیم بی بی بھروانہ کو کسانوں کے بقایا جات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے

ان دونوں ماں اور بیٹی کو اسمبلیوں میں کسانوں کے بقایا جات کی ادائیگی کا مسئلے اٹھانے کی ہمت ہیں ہورہی ہے اب تو چیف سیکرٹری بھی شریفوں کے غلام ثابت ہورہے ہیں اورکسانوں کے بقایا جات کی ادائیگی کے بغیر اپنے سابق سردار شہباز شریف کے مفادات کے تحفظ میں مشہور ہیں جبکہ چنیوٹ انتظامیہ کے اعلیٰ افسران پہلے ہی کرپشن میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں مقامی کسانوں نے استدعا کی ہے کہ اگر مل انتظامیہ کو بقایا جات کی ادائیی تک کرشنگ سیزن شروع نہ کرنے کا پابند بنایاجائے تو یہ ادائیگیاں ایک دن میں ہوسکتی ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…