بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسزکی سب سے زیادہ تعداد تعینات اگست 2019ء سے پہلے کتنی کمپنیاں سکیورٹی کی آڑ میں تعینات کی گئیں؟جانئے

datetime 8  دسمبر‬‮  2019 |

سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں 5اگست کوجموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد بھارتی فورسز کی سب سے زیادہ تعداد تعینات کردی گئی ہے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق 5اگست کومقبوضہ کشمیر میں بھارتی سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کی 430کمپنیاںتعینات ک تھیں جن میں سی آر پی ایف، بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، ایس ایس بی اور سی آئی ایس ایف شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق وادی کشمیر میں عام طورپر بھارتی فوج اور پولیس کے علاوہ سی اے پی ایف کی 200کمپنیاں تعینات رہتی تھیں۔ ہرکمپنی میں تقریباً100اہلکار ہوتے ہیں۔ اگست 2019ء سے پہلے مقبوضہ علاقے میں 230اضافی کمپنیاں پنچایتی اوربلدیاتی انتخابات کے لیے سکیورٹی کی آڑ میں تعینات کی گئیں جوستمبر 2018ء میں ہوئے تھے جس کے بعدمئی 2019ء میں لوک سبھا کے انتخابات اورامرناتھ یاترا کا بہانہ بناکر انہیں مسلسل تعینات رکھا گیا۔ 5اگست کے بعد سی اے پی ایف کی تعیناتی653کمپنیوں تک بڑھادی گئی۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ مقبوضہ علاقے میں 5اگست کے بعد بھارتی فورسزدن رات لوگوں کی نگرانی کررہی ہیں۔ رپورٹ میں اعلی سکیورٹی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہاگیا کہ رواں سال میں تعینات بھارتی فورسز کی تعداد 1990ء کی دہائی سے بھی زیادہ ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ فورسز کی زیادہ تر تعیناتی تحریری احکامات کے بغیر ہی کی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ بتانا ناممکن ہے کہ سی آر پی ایف، بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، ایس ایس بی اور سی آئی ایس ایف میں سے کس کی کتنی تعدادتعینات ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…