پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

عالمی بینک کےمصالحتی نظام میں نقائص سامنے آگئے پاکستان کو ایسے کیس میں 5 ارب 90 کروڑ ڈالر کا جرمانہ ہوا ، جس کا کوئی سر پیر نہیں، رپورٹ میں انکشاف کے بعد عالمی بینک کا بھی رد عمل آگیا ، بڑا اعلان

datetime 4  دسمبر‬‮  2019 |

نیویارک( آن لائن ) امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز نے عالمی بینک کے مصالحتی نظام کو نقائص پر مبنی قرار دے دیا۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کے مصالحتی نظام سے غریب ممالک کی قیمت پر امیر ممالک کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ریکوڈک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے

امریکی اخبار نے لکھا کہ اس کیس میں پاکستان پر 5 ارب 90 کروڑ ڈالر کا جرمانہ اس کی مثال ہے، پاکستان کو ایسے کیس میں جرمانہ کیا گیا جو منظور ہوا نا اس پر عمل درآمد ہوا۔رپورٹ میں ریکوڈک کے حوالے سے مصالحتی پینل کے فیصلے کو کان کنی کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی بینک کے مقرر کردہ مصالحتی پینل میں اس شعبے کا ماہر کوئی نہیں تھا۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق عالمی بینک کے پینل کی جانب سے آسٹریلین کمپنی کو 15 سال تک ٹیکس ہالی ڈے دینے کا فیصلہ بغیر شواہد کے دیا گیا، عالمی بینک کے پینل نے خود ہی فیصلہ کر لیا کہ آسٹریلین کمپنی کتنا منافع کما سکتی تھی۔عالمی بینک کی جانب سے نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ پر ردعمل میں کہا گیا ہے کہ مقدمات کا فیصلہ آزاد خود مختار ٹربیونل کرتے ہیں اور ٹربیونل کے ممبران کا چناؤ عمومی طور پر فریقین کرتے ہیں۔ورلڈ بینک کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستان اور آسٹریلوی کمپنی کے کیس میں ممبران کا چناؤ فریقین نے کیا، ٹربیونل کے صدر کا چناؤ بھی فریقین نے ہی کیا، فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لیے پاکستان کی درخواست عالمی بینک کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔یاد رہے کہ 2012 سے بین الاقوامی فورم پر لڑی جانے والی قانونی جنگ کا فیصلہ ورلڈ بینک نے جولائی میں جاری کیا تھا جس میں پاکستان پر تقریباً 6 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…