اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

جج صاحبان کی تقرری کے قواعد و ضوابط میں ترامیم کی باضابطہ منظوری دیدی گئی،جس امیدوار کی تقرری بطور جج زیرغور ہوگی اس کے ساتھ اب کیا ہوگا؟بڑا فیصلہ

datetime 1  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری نے جج صاحبان کی تقرری کے قواعد و ضوابط میں ترامیم کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔جمعہ کو وفاقی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے

ججز کی تقرری کیلئے نامزد امیدواروں کو انٹرویو کیلئے مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں قواعد و ضوابط میں ترامیم کی باضابطہ منظوری بھی دی گئی، نئی ترامیم کے مطابق جس امیدوار کی تقرری بطور جج زیرغور ہوگی اس کا انٹرویو کیا جاسکے گا، نامزد امیدوار جج انٹرویو کیلئے دستیاب نہیں ہوگا تو اس کی نامزدگی مسترد تصور ہوگی۔ترامیم کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کسی بھی شخص کو سمن / مدعو یا اس کا انٹرویو کر سکے گی۔سینیٹ سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق جس امیدوارکی تقرری بطور جج زیر غور ہو گی اس کا بھی انٹرویو کیا جا سکے گا۔اس کے علاوہ اگر نامزد امیدوار جج انٹرویو کیلئے دستیاب نہیں ہوگا تو اس کی نامزدگی مسترد تصور ہوگی۔نئے رولز میں مسترد شدہ کیسز کے بارے میں بھی طریقہ کار فراہم کر دیا گیا۔ نئے ترمیم شدہ مسودہ میں پارلیمانی کمیٹی کو سب کمیٹی تشکیل دینے کا بھی اختیار ہوگا۔مسلسل تین اجلاسوں میں شرکت نہ کرنے والے اراکین کی رکنیت منسوخ کر دی جائے گی۔کمیٹی کا اجلاس 4 دسمبر 2019ء کو دوبارہ ہوگا جس میں نئے چیئرمین کی تقرری کیلئے باضابطہ انتخابی عمل ہوگا۔نئے منتخب ہونے والے چیئرمین 6 ماہ تک کمیٹی کی صدارت کر یں گے۔ جوڈیشل کمیشن کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی تقرری کیلئے نامزد امیدواروں کو انٹرویو کیلئے بھی مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پارلیمانی کمیٹی کی ترامیم اب پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…