بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

شام : ترکی کے زیر کنٹرول علاقے میں کار بم دھماکا، 17 افراد ہلاک

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

انقرہ/دمشق(این این آئی)شمالی شام میں ترکی کے زیر کنٹرول علاقے میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترکی کی وزارت دفاع نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ حملہ شہر راس العین کے مغرب میں واقع گاؤں طل حلف میں کیا گیا، جو اکتوبر میں ترک فوج کے آپریشن کے بعد سے اس کے زیر کنٹرول ہے۔جائے وقوع کی تصاویر میں دیکھا گیا کہ گاؤں کی

مارکیٹ میں دھماکے سے کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔دھماکے کی ذمہ داری کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) پر عائد کی گئی جسے انقرہ کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کا شامی گروپ قرار دیتا ہے جس پر 1984 سے ترکی کے خلاف حملوں کو الزام لگایا جاتا ہے۔ترک وزارت دفاع نے ٹوئٹر پر مزید کہا کہ پی کے کے/وائی پی جی دہشت گرد گروپ شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے کار بم دھماکے جاری رکھے ہوئے ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بچوں کو قتل کرنے والوں نے اس بار راس العین کے مغربی گاؤں طل حلف میں کار بم دھماکا کیا جس سے 17 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے،برطانیہ سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے شامی مبصر گروپ نے دھماکے کی تصدیق کی تاہم اس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہے جس میں 3 عام شہری بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ ترک فورسز اور اس کی پراکسیز نے شام میں کرد فورسز کے خلاف 9 اکتوبر کو کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ترکی کی جانب سے یہ فوجی کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام سے فوجی انخلا کے حکم کے بعد سامنے آئی تھی۔امریکی صدر کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے شام میں ‘داعش’ کے خلاف جنگ میں کرد شراکت داروں کو ‘دھوکا دینے کے مترادف’ قرار دیا گیا۔اس آپریشن میں ترکی نے امریکا اور روس سے الگ الگ معاہوں کے بعد شمالی شمالی کے ایک حصے کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔انقرہ کا کہنا تھا کہ وہ اس کے زیر کنٹرول خطے میں ‘محفوظ زون’ قائم کرنا چاہتا ہے جہاں وہ ان تقریباً 36 لاکھ شامی مہاجرین کو آباد کرے گا جن کی وہ اپنی ملک میں میزبانی کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…