جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

شام : ترکی کے زیر کنٹرول علاقے میں کار بم دھماکا، 17 افراد ہلاک

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

انقرہ/دمشق(این این آئی)شمالی شام میں ترکی کے زیر کنٹرول علاقے میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترکی کی وزارت دفاع نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ حملہ شہر راس العین کے مغرب میں واقع گاؤں طل حلف میں کیا گیا، جو اکتوبر میں ترک فوج کے آپریشن کے بعد سے اس کے زیر کنٹرول ہے۔جائے وقوع کی تصاویر میں دیکھا گیا کہ گاؤں کی

مارکیٹ میں دھماکے سے کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔دھماکے کی ذمہ داری کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) پر عائد کی گئی جسے انقرہ کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کا شامی گروپ قرار دیتا ہے جس پر 1984 سے ترکی کے خلاف حملوں کو الزام لگایا جاتا ہے۔ترک وزارت دفاع نے ٹوئٹر پر مزید کہا کہ پی کے کے/وائی پی جی دہشت گرد گروپ شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے کار بم دھماکے جاری رکھے ہوئے ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بچوں کو قتل کرنے والوں نے اس بار راس العین کے مغربی گاؤں طل حلف میں کار بم دھماکا کیا جس سے 17 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے،برطانیہ سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے شامی مبصر گروپ نے دھماکے کی تصدیق کی تاہم اس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہے جس میں 3 عام شہری بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ ترک فورسز اور اس کی پراکسیز نے شام میں کرد فورسز کے خلاف 9 اکتوبر کو کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ترکی کی جانب سے یہ فوجی کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام سے فوجی انخلا کے حکم کے بعد سامنے آئی تھی۔امریکی صدر کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے شام میں ‘داعش’ کے خلاف جنگ میں کرد شراکت داروں کو ‘دھوکا دینے کے مترادف’ قرار دیا گیا۔اس آپریشن میں ترکی نے امریکا اور روس سے الگ الگ معاہوں کے بعد شمالی شمالی کے ایک حصے کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔انقرہ کا کہنا تھا کہ وہ اس کے زیر کنٹرول خطے میں ‘محفوظ زون’ قائم کرنا چاہتا ہے جہاں وہ ان تقریباً 36 لاکھ شامی مہاجرین کو آباد کرے گا جن کی وہ اپنی ملک میں میزبانی کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…