منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

آرمی چیف سے متعلق نوٹیفکیشن میں کس نےغلطی کی،اہم ترین دستاویزات کیسے تیسرے شخص کے پاس گئیں؟اہم انکشافات

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی رانا عظیم کا حالیہ صورتحال پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ان تمام حالات میں دیکھنا یہ ہو گا کہ خرابی ہے کہاں پر،میری اطلاع کے مطابق ایک نوٹیفکیشن جاری ہوتا ہے،اگر نوٹیفکیشن میں غلطی ہوتی ہے تو اس کو دیکھنے کے لیے پوری وزارت قانون موجود ہوتی ہے۔

وہاں پر ان لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جو ان معاملات کو دیکھتی ہے،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھی موجود ہوتی ہے جن کو ان تمام باتوں کا پتہ ہوتا ہے کہ یہ سمری کہاں جانی ہے اور کہاں سے پاس ہونی ہے۔اگر اس معاملے میںکسی ایک سے غلطی ہوتی ہے تو اس کو چیک کرنے کے لیے وہاں پر اور کئی لوگ موجود ہوتے ہیں۔یہ ایک باقاعدہ سسٹم ہے۔رانا عظیم نے کہا ہے کہ یہ غلطی جان بوجھ کر نہیں ہوئی تاہم اس کو نا اہلی یا لاعلمی کہا جا سکتا ہے۔لیکن اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن،وزارت قانون اور وزارت دفاع نے اس غلطی کا جائزہ کیوں نہیں لیا،انہوں نے یہ نکتہ اعتراض کیوں نہیں اٹھایا۔حکومت اور اداروں کو اس معاملے کو دیکھنا ہو گا کہ یہ سازش کہاں سے ہوئی،اہم ترین ڈاکیومنٹس کسی تیسرے شخص کے پاس گئے ہیں اس کو یہ پٹیشن کس نے بھیجی ہے؟۔اہم ترین ادارے کی چیزیں کس طرح باہر نکلی ہیں۔کہیں یہ کوئی عالمی سازش تو نہیں۔رانا عظیم نے مزید کہا کہ عدلیہ قانون کے مطابق کام کر رہی ہے۔عدلیہ کے اس فیصلے کے بعد امید ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق ایک بہتر فیصلہ کرے گی۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس عدالتی فیصلے کی ذمہ دار صرف حکومت اور سرکاری مشینری ہے،جہاں جہاں سے یہ سمری گزر کر گئی ہے،جس جس نے پڑھی ہے۔یہ سب دیکھنا ہو گا۔کیوں کہ یہاں پر لوگ لاکھوں روپے تنخواہ لے کر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ان میں سے کسی نے وزیراعظم کے سامنے ان غلطیوں کی نشاندہی کیوں نہیں کی؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…