بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

آسٹریا میں ہٹلر کی جائے پیدائش کو کس سینٹر میں تبدیل کردیا گیا؟ دیکھنے والے حیران

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

ویانا(این این آئی )آسٹریا میں حکومت نے نازی رہنما آڈولف ہٹلر کے پیدائشی گھر کو پولیس ہیڈکواٹر میں بدلنے کا اعلان کیا ہے تاکہ یورپ میں فسطائیت کے حامیوں کو کبھی اس جگہ تک رسائی نہ مل سکے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہٹلر نے ایک سو سال پرانی اس عمارت کے ایک فلیٹ میں اپنے ابتدائی مہینے گزارے۔ بعد میں اس کے والدین وہاں سے جرمنی منتقل ہو گئے تھے۔ یورپ کے سفید فام انتہا پسندوں کے نزدیک اس

عمارت کی اپنی اہمیت ہے، جہاں بعض لوگ گھومنے جاتے رہے ہیں۔ہٹلر نے اپنی فوجی آمریت کے تحت پڑوسی ملکوں پر چڑھائی کی اور جرمنی کو دوسری جنگِ عظیم میں جھونکا تھا۔ ہٹلر کی جنگوں اور انسانیت سوز مظالم کے نتیجے میں کوئی پانچ کروڑ لوگ مارے گئے تھے۔ آسٹریا کے وزیر داخلہ ولفگانگ پیشورن نے کہا کہ حکومتی فیصلہ اس بات کا واضع اشارہ ہے کہ مستقبل میں یہ عمارت کبھی بھی ہٹلر کے “نیشنل سوشلزم” کا پرچار کرنے کی جگہ بن سکے گی۔آسٹریا کے قصبے برونا ایم اِن میں جرمنی کے سابق ڈکٹیٹر سے منسلک یہ پراپرٹی حکومت نے ایک عرصے سے کرائے پر لے رکھی تھی۔ کچھ عرصے تک حکام نے اسے معذور افراد کی نگہداشت کے مرکز کے طور پر چلایا۔ بعد میں جب حکومت نے اس کی تعمیر نو کرنی چاہی اور اسے اس کے مالک سے خریدنا چاہا تو اس نے انکار کردیا۔معاملہ عدالت میں گیا اور کوئی تین سال تک ملکیت پر تنازعہ چلتا رہا۔ عدالتی کارروائی اس سال اگست میں اپنے اختتام کو پہنچی اور حکومت نے پراپرٹی کے مالک کو آٹھ لاکھ دس ہزار یورو ادا کئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…