جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

تھائی لینڈکی جان لیواخوراک

datetime 14  جون‬‮  2015 |

بینکاک (نیوزڈیسک )تھائی لینڈ کے شمال مشرقی حصے میں ایک مقامی مرغوب غذا کو کچی مچھلی سے تیار کیا جاتا ہے، لیکن اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس علاقے میں جگر کے سرطان کی ایک بڑی وجہ یہی خوراک ہے اور ڈاکٹر اس بارے میں لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
تھائی لینڈ کے شمال مشرق میں واقع اسان سطح مرتفع غریب، خشک اور سمندر سے دور ہے۔ تھائی لینڈ کی ایک تہائی آبادی اسی خطے میں آباد ہے، جن میں بیشتر لا نسل سے ہیں۔
یہ علاقہ مرچ مصالحے دار کھانوں کی وجہ سے بھی مشہور ہے جو دستیاب اجزائے ترکیبی سے تیار کیے جاتے ہیں۔جہاں کہیں بھی جھیلیں یا دریا ہیں وہ ایک چھوٹی قسم کی مچھلی کوئی پلا نامی ڈش کی تیاری میں استعمال کرتے ہیں۔ مچھلی کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا جاتا ہے اور ہاتھوں کی مدد سے جڑی بوٹیوں، لیموں کے جوس اور زندہ سرخ چونٹیوں کے ساتھ مکس کیا جاتا ہے۔یہ ایک من پسند غذا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی۔کئی دہائیوں سے شمال مشرقی علاقے کی مخصوص آبادی میں جگر کے سرطان کی شرح غیرمعمولی طور پر بلند ہے۔
مردوں میں سرطان کے تمام کیسز میں 50 فیصد جگر کے سرطان کے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر یہ اوسط دس فیصد ہے۔جگر کے سرطان کی اس بلند شرح کا تعلق کچی مچھلی میں موجود ایک پیراسائیٹ لیور فلوک سے ہے۔جگر کے سرطان کی بلند شرح کا تعلق کچی مچھلی میں موجود ایک پیراسائیٹ لیور فلوک سے ہے ۔لیکن ایسا محض گذشتہ دہائی میں ہی ہوا ہے کہ لوگوں کو ان کے کھانے کی عادات میں تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی ہے، یعنی ان جراثیم کو مارنے کے لیے کوئی پلا کو پکا کر کھانا۔ان کوششوں کا سہرا کھون کائن یونیورسٹی کی ٹراپیکل ڈیزیز ریسرچ لیبارٹری کے ڈاکٹر بان چوب سریپا کے سر ہے۔وہ کہتے ہیں: ہم گذشتہ 30 برسوں اپنی لیبارٹریوں میں اس تعلق کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
ہمیں علم ہوا ہے کہ لیور فلوک ایک ایسا کیمیائی مادہ پیدا کرتے ہیں جو قوت مدافعت کو متاثر کرتا ہے یعنی سوزش اور کئی برسوں بعد یہ سوزش سرطان کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…