اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

تھائی لینڈکی جان لیواخوراک

datetime 14  جون‬‮  2015 |

بینکاک (نیوزڈیسک )تھائی لینڈ کے شمال مشرقی حصے میں ایک مقامی مرغوب غذا کو کچی مچھلی سے تیار کیا جاتا ہے، لیکن اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس علاقے میں جگر کے سرطان کی ایک بڑی وجہ یہی خوراک ہے اور ڈاکٹر اس بارے میں لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
تھائی لینڈ کے شمال مشرق میں واقع اسان سطح مرتفع غریب، خشک اور سمندر سے دور ہے۔ تھائی لینڈ کی ایک تہائی آبادی اسی خطے میں آباد ہے، جن میں بیشتر لا نسل سے ہیں۔
یہ علاقہ مرچ مصالحے دار کھانوں کی وجہ سے بھی مشہور ہے جو دستیاب اجزائے ترکیبی سے تیار کیے جاتے ہیں۔جہاں کہیں بھی جھیلیں یا دریا ہیں وہ ایک چھوٹی قسم کی مچھلی کوئی پلا نامی ڈش کی تیاری میں استعمال کرتے ہیں۔ مچھلی کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا جاتا ہے اور ہاتھوں کی مدد سے جڑی بوٹیوں، لیموں کے جوس اور زندہ سرخ چونٹیوں کے ساتھ مکس کیا جاتا ہے۔یہ ایک من پسند غذا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی۔کئی دہائیوں سے شمال مشرقی علاقے کی مخصوص آبادی میں جگر کے سرطان کی شرح غیرمعمولی طور پر بلند ہے۔
مردوں میں سرطان کے تمام کیسز میں 50 فیصد جگر کے سرطان کے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر یہ اوسط دس فیصد ہے۔جگر کے سرطان کی اس بلند شرح کا تعلق کچی مچھلی میں موجود ایک پیراسائیٹ لیور فلوک سے ہے۔جگر کے سرطان کی بلند شرح کا تعلق کچی مچھلی میں موجود ایک پیراسائیٹ لیور فلوک سے ہے ۔لیکن ایسا محض گذشتہ دہائی میں ہی ہوا ہے کہ لوگوں کو ان کے کھانے کی عادات میں تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی ہے، یعنی ان جراثیم کو مارنے کے لیے کوئی پلا کو پکا کر کھانا۔ان کوششوں کا سہرا کھون کائن یونیورسٹی کی ٹراپیکل ڈیزیز ریسرچ لیبارٹری کے ڈاکٹر بان چوب سریپا کے سر ہے۔وہ کہتے ہیں: ہم گذشتہ 30 برسوں اپنی لیبارٹریوں میں اس تعلق کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
ہمیں علم ہوا ہے کہ لیور فلوک ایک ایسا کیمیائی مادہ پیدا کرتے ہیں جو قوت مدافعت کو متاثر کرتا ہے یعنی سوزش اور کئی برسوں بعد یہ سوزش سرطان کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…