ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے مذاکرات کے دوران کیا ہوا؟ ہمارے کتنے مطالبات تسلیم کرلئے گئے؟ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم  درانی  کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

بنوں ( آ ن لائن)رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم خان درانی نے پلان بی کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے ایک ہی بات کررہی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان کے استعفیٰ کا مطالبہ نہ کریں باقی حکومت رہبر کمیٹی کی ہر ایک بات مان رہی ہے لیکن رہبر کمیٹی استعفیٰ کی بات پر بضد تھی اور بضد رہے گی۔

اس موقع پر قومی اسمبلی کے زاہد اکرم خان درانی,ایم پی اے مفتی جنان,ایم پی اے ظفرا عظم خٹک,سابق تحصیل ناظم ملک احسان خان چیف آف بھرت عنایت اللہ خان,سابق ضلع ممبر ملک اسلم خان,سابق ضلع ممبر سوکڑی سید کمال شاہ,ملک نعیم خان میتاخیل,آل ٹرانسپورٹ جنوبی اضلاع کے صدر حاجی مقبول زمان اعوان, ملک حمید خان,ملک رفیع اللہ خانو دیگر بھی موجود تھے اْنہوں نے الزام لگایا کہ متکبر حکومت اور نااہل وزیر اعظم عمران خان مولانافضل الرحمن سے معافی مانگنے کیلئے تیار ہیں مخالفین مختلف باتیں کررہے ہیں کہ آزادی ملین مارچ کو باہر ممالک سے فنڈز آرہے ہیں لیکن ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ ہماری تحریک کو کسی قسم کے فنڈز نہیں آئے ہیں اور نہ ہی ہم نے کسی سے فنڈز کا مطالبہ کیا ہے اْنہوں نے کہاکہ ہمارا آزادی ملین مارچ پندرہ دن تک جاری رہا اس آزادی ملین مارچ نے دنیا کو ایک امن پیغام دیاہم نے پی ٹی آئی کے دھرنے کی طرح ملک کو نقصان نہیں پہنچایا ہے ہم پرامن لوگ ہیں جو کہ ہم نے آزادی ملین مارچ میں ثابت کردیا اْنہوں نے کہاکہ ہم اپنے قائد مولانا فضل الرحمن کے اشارے کے منتظر ہیں وہ جس طرح حکم دیں گے ہم لبیک کہیں گے ہمارے آزادی ملین مارچ میں تمام طبقہ کے افراد نے شرکت کی ہے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ہمارے کارکن آزادی ملین مارچ میں قربانیاں دیں نہ سردی کو اور نہ گرمی کو دیکھا پلان اے کو کامیاب کیا اب وقت آگیا ہے کہ پلان اے کی طرح پلان بی کو بھی کامیاب کریں کارکنان حوصلے نہ ہاریں ہم نے یہ جنگ جیت لی ہے

تاجر برادری اور عوام کو درپیش مشکلات کی وجہ سے مرکزی کمیٹی نے رات کے وقت روڈ کھولنے اور دن کے اوقات میں روڈ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ہم عوام کو تکلیف دینے والوں میں سے نہیں ہم نے عوام کے حقوق کی جنگ لڑ نا ہے اگر مولانا نے ایک اشارہ کیا تو ملکی معیشت کا پہیہ جام ہو جائے گا۔ انہوں نے کارکنان کو پیغام دیا کہ دن کے وقت بھی ایمر جنسی کی صورت میں گاڑیوں کو اجازت دیا کریں کیونکہ دوسروں کا درد ہم اپنا درد سمجھتے ہیں یہی ہمارا پارٹی کا منشور بھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…