ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

نجکاری کا مقصد روزانہ کی بنیاد پر سرکاری خزانے کو کروڑوں اربوں روپے کے خسارے سے بچانا ہے،وزیراعظم عمران خان نے بڑے اقدام کا اعلان کردیا

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی وسائل میں نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، نجکاری کا مقصد روزانہ کی بنیاد پر سرکاری خزانے کو کروڑوں اربوں روپے کے خسارے سے بچانا ہے، یہ تاثردرست نہیں نجکاری کے تحت حکومت محض نقصان کے حامل اداروں سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتی ہے،اثاثوں اور اداروں کی نجکاری کے عمل میں شامل تمام وزارتوں کے متحرک کردار اور بھرپور تعاون کو یقینی بنایا جائے۔

جمعہ کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نجکاری عمل میں پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ نجکاری میاں محمد سومرو، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری، سیکرٹری نجکاری رضوان ملک و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔اجلاس میں نجکاری عمل میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعظم کو نجکاری کے لئے نشاندہی کی جانے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل میں اب تک کی پیش رفت کی رپورٹ پیش۔ سیکرٹری نجکاری رضوان ملک نے نجکاری عمل پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں ان اداروں اور املاک کو شامل کیا گیا ہے جو سرکاری خزانے پرمسلسل بوجھ ہیں یا اپنی صلاحیت سے کم کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسی سرکاری املاک کو بھی نجکاری عمل میں شامل کیا گیا ہے جو کہ سالہا سال سے غیر استعمال شدہ یا غیر منافع بخش ہیں۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اربوں روپے مالیت کے مختلف سرکاری ادارے جن میں حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ، بلوکی پاور پلانٹ، ایس ایم ای بینک، سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہور، جناح کنونشن سنٹر وغیرہ شامل ہیں انکی نجکاری کا عمل تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ان اداروں کی نجکاری کے عمل میں بین الاقوامی طور پر گہری دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ان اداروں کے علاوہ گدو پاور پلانٹ، نندی پور پاور پلانٹ، فرسٹ وویمن بنک، پاک پٹرولیم لمیٹڈ، سٹیٹ لائف وغیرہ جیسے مختلف اداروں کی نجکاری کا عمل بھی شروع کر دیا گیا اور اس میں خاطر خواہ پیش رفت حاصل کر لی گئی ہے۔ اجلاس کو مختلف وزارتوں اور سرکاری اداروں کی ملکیت بیش قیمت اراضی کی فروخت کے حوالے سے پیش رفت پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وسائل میں نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کا مقصد جہاں روزانہ کی بنیاد پر سرکاری خزانے کو کروڑوں اربوں روپے کے خسارے سے بچانا ہے وہاں اس عمل کا مقصد ان اداروں کو کہ جن کی کارکردگی ان کی استعداد کے مطابق نہیں ان کو متعلقہ شعبوں میں اہل افراد کے حوالے کرنا ہے تاکہ ان اداروں کے پوٹینشل کو صحیح معنوں میں برؤے کار لا کر ان سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثردرست نہیں کہ نجکاری کے تحت حکومت محض نقصان کے حامل اداروں سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ قومی خزانے کو نقصان سے بچانے کے ساتھ ساتھ اداروں کی کارکردگی کو ان کی استعداد کے مطابق چلانا، اداروں سے بہترین نتائج کا حصول اور مجموعی طور معیشت کی بہتری نجکاری عمل کی اصل روح ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ نجکاری کے عمل سے ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی جن کی کاکردگی عدم توجہ کے باعث گذشتہ سالہا سال سے انکی اصل استعداد سے کم رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ نجکاری عمل کی جلداز جلد تکمیل سے حکومتی مالی وسائل خصوصاً نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا جس سے حکومت کی جانب سے عوامی فلاح وبہبود کے زیادہ منصوبے شروع کرنے اور صحت، تعلیم و دیگر سہولتوں کی عوام تک فراہمی میں آسانی پیدا ہوگی۔وزیرِ اعظم نے سیکرٹری نجکاری کو ہدایت کی کہ نجکاری کیلئے نشاندہی کئے جانیوالے تمام اداروں کی نجکاری کو مقررہ ٹائم فریم میں مکمل کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے حکومت نجکاری ڈویڑن کو درکار تمام ضروری وسائل فراہم کرنے کیلئے پر عزم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اثاثوں اور اداروں کی نجکاری کے عمل میں شامل تمام وزارتوں کے متحرک کردار اور بھرپور تعاون کو بھی یقینی بنایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ہونے کے سبب وزیرِ اعظم آفس کو نجکاری عمل کی پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھا جائے اور اس ضمن میں کسی بھی دقت کو ہنگامی بنیادوں پر دور کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…