جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مصنوعی گردوں کے ذریعے ڈائیلاسز کا عمل، سائنسدانوں نے کامیاب آزمائش کر لی

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)گردوں کے امراض کے دوران ڈائیلاسز کرانا مریض کے لیے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے تاہم لگتا ہے کہ مستقبل میں اس سے نجات مل جائے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ آٹومیٹڈ وئیرایبل مصنوعی گردے سے کڈنی فیلیئر کے مریضوں کے خون میں سے زہریلے مواد کو موثر طریقے سے نکالنے میں مدد مل سکے گی۔سائنسدانوں کی جانب سے اس مصنوعی گردے والی ڈیوائس کی

ڈائیلاسز کے لیے آزمائش کی جارہی ہے جس سے تھراپی کے کئی گھنٹوں اور بڑی مشینوں کے استعمال سے نجات مل جائے گی۔اس ٹیکنالوجی میں ڈائیلاسز سیال کو زہریلے مواد کو نکالنے کے بعد دوبارہ تازہ بنا کر استعمال کرنا ممکن ہوسکے گا۔سنگاپور جنرل ہاسپٹل کی جانب سے اس کی پہلی انسانی آزمائش 15 مریضوں پر کی گئی جن میں اس ڈیوائس سے سو سے زائد بار ڈائلاسز کیا گیا، علاج کے ایک ماہ بعد بھی ان میں کوئی سنگین مضر اثرات دیکھنے میں نہیں آئے جبکہ یہ طریقہ کار خون سے زہریلے مواد کو خارج کرنے کے لیے بھی موثر ثابت ہوا۔محقق مارجوری فو وائی ین کے مطابق اس ڈیوائس کے لیے جس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا وہ گزشتہ 40 سال استعمال ہونے والے ڈائیلاسز کے عمل کو انقلابی بناسکتی ہے کیونکہ اس سے مریضوں کے علاج میں سہولت اور لچک بھی ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی سے ڈائیلاسز سیال کے دوبارہ استعمال سے وسائل بچانے میں مدد ملے گی جبکہ طبی فضلہ بھی کم کیا جاسکے گا۔اس تحقیق کے نتائج واشنگٹن میں ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے۔خیال رہے کہ گردے جسم کے اندر خون کے اندر موجود زہریلے مواد کے اخراج، سیال کے صحت مند توازن اور ہارمونز بنا کر بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔گردے اپنے افعال سرانجام نہ دے سکیں تو پھیپھڑوں میں خون اور پانی میں زہریلا مواد جمع ہونے لگتا ہے جس کا نتجہ جان لیوا نکلتا ہے، ابھی اس کا موثر علاج ٹرانسپلانٹ سمجھا جاتا ہے، مگر مریضوں کے مقابلے میں ڈونرز کی تعداد کم ہوتی ہے۔اس سے ہٹ کر ڈائیلاسز ہی واحد آپشن ہے جو کہ کافی تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…