بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

تلخ کلامی کے بعد پولیس افسر نے اپنے ہی بیٹے کو گولی مار دی

datetime 26  اکتوبر‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کی ریاست اترپردیش کے علاقے گورکھ پور میں پولیس افسر نے تھانے میں موجود اپنے بیٹے کو تلخ کلامی کے بعد گولی مار کر قتل کر دیا۔بھارتی ٹی وی کے مطابق گورکھ پور کے چاوری چاورا پولیس اسٹیشن میں ہیڈکانسٹیبل کی اپنے بیٹے سے تلخ کلامی ہوئی اور اسی دوران

انہوں نے اپنی بندوق سے اسے گولی مار دی۔بعد ازاں ہیڈ کانسٹیبل کی شناخت اروند یادیو کے نام سے ہوئی اور پولیس نے ان کی لائسنس یافتہ بندوق بھی قبضے میں لے لی۔پولیس کے سرکل افسر سمت شکلا کا کہنا تھا کہ اروند کا اپنے بیٹے سے جھگڑا ہوا تھا، اسی دوران انہوں نے فائرنگ کی جس سے ان کا بیٹا موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ملزم کو حراست میں لے کر ان سے اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اروند یادیو کا بیٹا وِکاس یادیو ان کی پہلی بیوی سے تھا اور گورکھ پور میں ہی رہائش پذیر تھے۔اروند یادیو پولیس اسٹیشن کے چیف تھے اور ان کی بیٹے سے جھگڑے کی وجوہات سامنے نہیں آسکیں۔گورکھ پور میں پیش آنے والے واقعے کے بعد علاقے میں سوگ پھیل گیا۔خیال رہے کہ بھارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ہندو قوم پرستوں کی جانب سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں اور رواں برس کے آغاز میں بھارت میں موجود کشمیریوں پر بری طرح تشدد کیا گیا تھا تاہم اب پولیس اہلکار کا اپنے ہی بیٹے کو تھانے کے اندر فائرنگ کرکے قتل کرنے کا افسوس ناک واقعہ بھی سامنے آگیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…