ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

ہم نے بھی عدالت نے اجازت لے کرمارچ کیا تھا،اپوزیشن کے احتجاجی مارچ کی میزبانی کریں گے، اسد عمرنے بڑی پیشکش کردی

datetime 24  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(آن لائن) تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء  اورسابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے احتجاجی مارچ کی میزبانی کریں گے، ہمیں اپوزیشن کے احتجاجی جلسے جلوسوں پر کوئی اعتراض نہیں،بشرطیکہ احتجاج عدالتی فیصلوں،آئین اور قانون کے دائرے میں ہو، وزیراعظم کے استعفے پر بات نہیں گی،ہم نے بھی عدالت نے اجازت لے کرمارچ کیا تھا۔تفصیلات کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ وزیردفاع پرویز خٹک اوراسد عمر نے ایم کیوایم کے وفد سے ملاقات کی،

انہوں نے اپوزیشن کے آزادی مارچ سے متعلق اتحادی جماعت کو اعتماد میں لیا۔ پرویزخٹک نے کہا کہ سیاسی لوگوں پر احتجاج کیلئے کوئی دباؤ نہیں ہوتا۔رہبرکمیٹی کی شرط تھی کہ ہمارے جلوسوں کو نہ روکا جائے۔حکومت نے جلوس کو نہ روکنے کا فیصلہ کیا ہے،اگر وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جلوس نکالیں گے توان کونہیں روکیں گے، لیکن اگر عدالتی فیصلے اور آئین قانون کی خلاف ورزی ہوئی توپھر حکومت ایکشن لے گی۔اگر عدالت کو ڈی چوک تک آنے کی اجازت دیتی ہے پھر ہم ان کو آنے دیں گے۔اپوزیشن کے ساتھ وزیراعظم کے استعفے پر بات نہیں گی۔انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں کہ ایم کیوایم اور جی ڈی اے کو کمیٹی میں کیوں شامل نہیں کیابلکہ یہ سینئرلوگ ہیں۔ہم نے چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کو شامل کیا ہے، ہم بڑی کمیٹی نہیں بنا سکتے تھے۔اس لیے ہم نے صرف ان لوگوں کو شامل کیا ہے۔پرویزخٹک نے کہا کہ وزیراعظم کے استعفے کی بات کی رکاوٹ ہٹا دی ہے اوراب ہم بات کریں گے۔ ہم نے سب سے بات کی ہے لیکن کسی نے بھی وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے جب دھرنا دیا تو ہم پہلے دھاندلی کیلئے نکلے تھے، پھر پاناما پر نکلے۔پی ٹی آئی کے سینئر رہنماء  اسد عمرنے کہا کہ آج اسلام آباد کے لوگ کس جماعت کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں اس میں کسی کوشک نہیں ہونا چاہیے، اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی تینوں سیٹیں تحریک انصاف کے پاس ہیں۔

اسلام آباد کے رہنے والے اس مطالبے پر کیا رائے رکھتے ہیں،سب کو معلوم ہے، ہم میزبانی یقینا کریں گے لیکن میزبانی ان کی کریں گے تو آئین اور قانون اور عدالتی احکامات پر عمل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جب ہم نے احتجاج کیا تھا تو عدالت کی باقاعدہ اجازت سے کیا تھا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ نے کیس کی سربراہی کی تھی۔ایم کیوایم پاکستان کے کنونیئرخالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم کسی بھی جماعت کے احتجاج، مارچ اور جلسے کو اس جماعت کا جمہوری حق سمجھتے ہیں۔لیکن عام پاکستانی اس احتجاج سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ہم میں ہر کسی کو احتجاج کا حق آئین اور قانون کے اندررہتے ہوئے ہے۔ میرا نہیں خیال کہ ان کو فوری مطالبہ کرنا چاہیے بلکہ ان کو اپنی بات مکمل کرلینی چاہیے کہ یہ استعفیٰ کس لیے مانگ رہے ہیں؟ استعفیٰ مانگنے کیلئے صرف دھرنا کافی نہیں ہے، بلکہ پہلے اپنا مقدمہ پیش کرنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…