بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت کو ایک اور بڑا جھٹکا، ناقص پالیسیوں کا الزام،انجمن تاجران مسلسل دو دن شٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کردیا

datetime 24  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)صدر انجمن تاجران اجمل بلوچ  نے کہاہے کہ 29 اور 30 اکتوبر کو ہر صورت  ہڑتال ہوگی اور پورے پاکستان میں تاجر کاروبار نہیں کرینگے شٹرڈاؤن ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزنیشنل پریس کلب اسلام  آباد  میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  کیا۔انہوں نے کہا کہ 9 اکتوبر کو بھی ملک کا کوئی بھی ضلع ایسا نہیں تھا جہاں سے تاجرتنظیم کے نمائندہ نے اسلام آباد آ کر اپنا احتجاج ریکارڈ نہ کروایا ہو۔

اجمل بلوچ نے کہا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے آج تاجر برادری ہڑتالوں پر مجبور ہیں، وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کی جانب سے سکرین پر بیٹھ کر بیان جاری کیے جاتے ہیں کہ تاجر ٹیکس نہیں ادا کرنا چاہتے اسلئے شناختی کارڈ نہیں دیتے، جبکہ جس قانون کی لڑائی ہم لڑ رہے ہیں اس میں صرف سیلز ٹیکس میں ررجسٹریشن کیلئے کہا گیا ہے ٹیکس کی ادائیگی کیلئے نہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت ہمارے ذریعے مینو فیکچرر تک پہنچنا چاہتی ہے،حکومت کے مطابق مینوفیکچرر چور ہے اگر ایسا ہے تو ایف بی آر کے لوگ بھی اس چوری میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ مینوفیکچرر کے ساتھ ایف بی آر کا انسپکٹر ہوتا ہے جو اس کی انسپیکشن کرتا ہے۔اجمل بلوچ نے کہا ایف بی آر کے متعلق تو سپریم کورٹ بھی کہہ چکی کہ اس ادارے کو بند کردینا چاہیے کیونکہ 80 فیصد ٹیکسز انڈائریکٹ وصول کیے جا رہے ہیں، ایف بی آر اور آئی ایم ایف میں کوئی فرق نہیں دونوں ملک کیلئے نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 41ہزار لوگوں تک پہنچنے کیلئے حکومت نے 41لاکھ لوگوں کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے، جبکہ قانون کے مطابق سیلز ٹیکس گاہک ادا کرتا ہے جہاں تک بات انکم ٹیکس کی ہی تو تمام تاجران ادا کرتے ہیں، سیلز ٹیکس گاہک کی جیب سے جاتا ہے۔اجمل بلوچ نے کہا کہ عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے کرپشن کو ختم کرنے کی بات کرتے تھے مگر اب وہ یہ نہیں دیکھ رہے کہ

ایف بی آر میں کتنے بڑے پیمانے پر کرپشن کی جارہی ہے، اگر کوئی مینو فیکچرر چوری کرتا ہے تو اس میں بھی ایف بی آر کے نمائندگان رشوت لیکر برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں۔اجمل بلوچ نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وزیرا عظم عمران خان اگر پرائم منسٹر ہاؤس کو یونیورسٹی بنا رہے ہیں تو ایف بی آر کو مسجد بنا دیں اور اس میں نماز تاجر برادری پڑھا دیا کرے گی۔صدر انجمن تاجران نے کہا کہ حکومت کو مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔آخر میں  انہوں نے  حکومت سے مطالبہ کیا کہ  مولانافضل الرحمن کے آزادی مارچ کو مخصوص جگہ تک رکھنا چاہیے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…