بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں فوجیوں کی تعداد کم کرکے 8ہزار کی جاسکتی ہے، امریکی وزیر دفاع

datetime 21  اکتوبر‬‮  2019 |

کابل/واشنگٹن ( آن لائن ) امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر وفد کے ہمراہ اچانک افغانستان پہنچ گئے جہاں انہوں نے صدر اشرف غنی سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں فوجیوں کی تعداد کم کرکے 8ہزار کی جاسکتی ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی وفد نے وزیردفاع مارک ایسپرکی قیادت میں افغان صدر سے کابل میں ملاقات کی جس میں امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی بھی شامل تھیں۔

امریکی وفد نے افغان صدراشرف غنی سے افغانستان اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ افغانستان میں فوجیوںکی تعداد کم کرکے آٹھ ہزار کی جاسکتی ہے۔ترجمان افغان وزارت دفاع فواد امان کے مطابق مارک ایسپر اہم لیڈروں سے ملاقات کرنے والے تھے اور انھیں امریکی فوج کی آپریشنل سرگرمیوں کے بارے میں بریف کیا جانا تھا تاہم کابل میں امریکی فورسز کے ہیڈ کوارٹرز نے مارک ایسپر کے دورے سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا۔خیال رہے کہ رواں برس جولائی میں پینٹاگون کی سربراہی سنبھالنے کے بعد امریکی وزیر دفاع کا یہ پہلا دورہ افغانستان ہے ، مارک ایسپر ایسے وقت میں دورہ افغانستان پر آئے ہیں جب خطے بالخصوص افغانستان میں قیام امن  کے لئے کئے جانے والے مذاکرات جمود کا شکار ہیں۔واضح رہے کہ اگر فریقین کے درمیان مذاکرات بحال ہونے کے بعد امن معاہدہ طے پاجاتا ہے تو اس کے تحت افغانستان سے امریکی فوج کا بتدریج انخلاء ہوگا لیکن اس کے بدلے میں طالبان بھی سلامتی سے متعلق بعض یقین دہانیاں کرائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…