جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پیپلز پارٹی نہ مسلم لیگ ن کی شخصیت ،عمران خان کو ہٹا کر کس کو وزیراعظم بنا دیں؟ فضل الرحمن کی مقتدر شخصیت سے ملاقات کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی

datetime 19  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن ، وزیر اعظم عمران خان سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے تجزیہ میں کہا کہ اکتوبر میں مارچ کرنے کی یہ جو بات ہے اس کے بارے میں مولانا فضل الرحمن اپنے ساتھیوں کو خود کہہ

چکے ہیں کہ آگے جا کر سردی ہو جائے گی تو پھر اس تحریک کو چلانا مشکل ہو جائے گا۔یہ ایک دلیل دی گئی ہے، شاید اور بھی وجوہات ہوں گی۔ لیکن میں یہ کہوں گا کہ عمران خان کے بارے میں مولانا کوئی بھی مفاہمت کرنے کو تیار نہیں۔ اگر کوئی اور حکومت ہوتی،کوئی اور وزیر اعظم ہوتا تو شاید وہ اس طرح نہ کرتے، مگر مولانا فضل الرحمن کو عمران خان سے شدید نفرت ہے۔اس لیے وہ ان سے بات چیت بھی نہیں کریں گے۔ اس موقع پرسینئراینکر محمد مالک نے کہا کہ مولانا کی ایک انتہائی مقتدر شخصیت سے ملاقات ہوئی، اُنہیں بلایا گیا اور پوچھا گیا کہ آپ کا مسئلہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ہٹا دیں، اس کے علاوہ جس کو مرضی بنا دیں۔تاہم مولانا کو واضح طور پر بتا دیا گیا کہ اس طرح سے نظام نہیں چلتا اور اس طرح آپ کے کہنے سے تبدیلی نہیں ہو گی۔ سو انہیں یہ تو پتا چل گیا ہے کہ ایسے نہیں ہو گا۔ لیکن وہ سب کچھ صرف اس لیے داؤ پر لگا رہے ہیں کہ ان کی انا مجروح ہوئی ہے۔ اگر انا کا مسئلہ ہی ہے تو پھر مولانا نے ماضی میں ایسے کئی سمجھوتے کیے جن میں انا کا بڑا تعلق تھا۔ جس پر رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ مولانا نے بہت سے سمجھوتے کیے ہیں، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت زیرک سیاست دان ہیں۔یہ اس حد تک جاتے ہیں جہاں تک ممکن ہو اور پھر یہ واپسی بھی کرتے ہیں۔

جہاں تک عمران خان کو ہٹانے کا کام ہے، زیادہ کام خود انہی کی پارٹی کو کرنا پڑے گا۔ باقی جماعتیں ان کی علامتی حمایت کریں گے، لیکن میرے خیال میں وہ آخری حد تک نہیں جائیں گے۔یا درہے کہ آزادی مارچ میں 2ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…