ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

ممتاز علمائے دین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) ممتاز علمائے دین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے سے انکار کرنے والوں میں مفتی اعظم مفتی رفیع عثمانی اور شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شیخ الحدیث مولانا فضل الرحیم، شیخ الحدیث مولانا حنیف جالندھری نے بھی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے سے انکار کیا۔

ملاقات نہ کرنے والوں میں شیخ الاسلام مفتی زرولی خان، علامہ ساجد میر بھی شامل ہیں۔ ملاقات نہ کرنے کی وجہ تاحال سمجھ نہیں آ سکی۔ خیال رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت علماء مشاورتی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ اور مدارس ریفارمز پرغورکیا گیا۔اجلاس میں اہم حکومتی شخصیات بھی شریک ہوئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے علماء کرام سے آزادی مارچ رکوانے کیلئے کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔ وزیر اعظم نے علما کرام سے مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے میں بھی کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ وزیراعظم نے علما کرام کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دینی مدارس کے حوالے سے انقلابی ریفارمز کی جا رہی ہیں، دینی مدارس کے طلباء کو حکومتی سرپرستی فراہم کریں گے۔انہوں نے شرکا اجلاس سے سوال کیا کہ وہ کونسا مسلمان ہے جو ختم نبوت کا پہرے دار نہیں؟ مشاورتی اجلاس میں شریک علامہ طاہر اشرفی نے میڈیا سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نے آزادی مارچ پر زیادہ بات نہیں کی، وزیراعظم نے آغاز میں ہی کہہ دیا تھا کہ یہ ملاقات مولانا کے آزادی مارچ سے متعلق نہیں، حکومتوں میں دھرنے اور احتجاج ہوتے رہتے ہیں، احتجاج معمول کی بات ہے، حکومت کو اس حوالے سے کوئی پریشانی نہیں۔ ممتاز علمائے دین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…