بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمان کا اپنا بیٹا قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے نہیں رہا اور یہ عمران خان سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں‘ عثمان ڈارنے کھری کھری سنادیں

datetime 18  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا اپنا بیٹا اسد الرحمان قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے نہیں رہا اور یہ وزیر اعظم عمران خان سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان موجودہ حکومت کو دھاندلی زدہ انتخابات کی پیداوار قرار دیتے ہیں جبکہ ان کا اپنا فرزند انہی انتخابات کے نتیجے میں قومی اسمبلی کا رکن بنا، اگر دھاندلی کا الزام درست ہے تو سب سے پہلے اپنے بیٹے سے استعفیٰ دلوائیں۔

لاڑکانہ میں جمعیت علمائے اسلام نے ہمارے اتحادی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی حمایت کی اور مل کر پیپلز پارٹی کو شکست دی اور یہاں وفاق کے خلاف اتحاد بنا کر بیٹھے ہیں۔آزادی مارچ کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے مولانا کو کنٹینر دینے کا وعدہ کیا تھا مگر ہمارا کنٹینر ڈیزل پر نہیں پٹرول پر چلتا ہے اس لیے مولانا کو نہیں دے سکتے، اگر پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ن)مانگتی تو ہم ضرور دے دیتے۔عوام میں اپوزیشن کی ساکھ کتنی اچھی ہے اس کا اندازہ ضمنی انتخاب کے نتائج سے لگایا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…