بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

من پسند مافیاؤں کو ٹیسٹنگ سروسز کے نام پر نوازے جانے کے عمل کو ختم کیا جائے، نوجوانوں نے وزیراعظم سے اہم مطالبہ کر دیا

datetime 16  اکتوبر‬‮  2019 |

راولپنڈی(آن لائن)بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور لا تعداد نوجوانوں نے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری اداروں میں بھرتی کیلئے گذشتہ حکومتوں کی جانب سے من پسند مافیاؤں کو ٹیسٹنگ سروسز کے نام پر نوازے جانے کے عمل کو ختم کریں. ٹیسٹ اور انٹر ویو کے نام پر بے روزگار نوجوانوں سے اربوں روپے بٹورنے والی ٹیسٹنگ ایجنسیوں کا وجود دنیا بھر میں کہیں نہیں

مگر ہمارے گزرے ہوئے حکمرانوں نے اپنے من پسند لوگوں کو نوازنے کیلئے انہیں لائسنس جاری کئے کہ وہ سرکاری اداروں میں بھرتی کے نام پر بیروزگار نوجوانوں کو لوٹیں. سرکاری اداروں میں نوکری کیلئے درخواستیں دینے کی غرض سے مری روڈ، سیٹلائٹ ٹاؤن، صدر، صادق آباد اور دیگر علاقوں میں بینکوں کے باہر ٹیسٹنگ ایجنسیوں کے کھاتے میں فیسیں جمع کروانے کیلئے لائنوں میں لگے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے کہا کہ ان ٹیسٹنگ ایجنسیوں کو سرکاری اداروں کودرکار افرادی قوت کی اہلیت کے بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا اور سارا کام رشوت پر چلتا ہے. ڈھوک کالا خان کے رہائشی دو بھائیوں نے اپنی بپتا سناتے ہوئے کہا کہ وہ گذشتہ ڈیڑھ سال سے فیسیں دے دے کر تھک چکے ہیں مگر ٹیسٹنگ ایجنسیوں سے وہ پوری محنت کے باوجود کلئیر نہیں ہو پا رہے. انہوں نے کہا کہ جس ادارے کو ملازمین کی ضرورت ہوتی ہے وہ باآسانی امیدواروں سے درخواستیں وصول کرکے ان کی شارٹ لسٹنگ اور اس کے بعد ٹیسٹ انٹرویو وغیرہ کر سکتا ہے مگر ہمارے ملک میں کرپشن اور مال بٹورنے کے نت نئے طریقے ایجاد کرنے والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں. انہوں نے کہا کہ ہمیں وزیر اعظم عمران خان سے امید ہے کہ وہ اس کانوٹس لیں گے اور ٹیسٹنگ سروسز ایجنسیوں کے فضول کاروبار کو بند کروائیں گے تاکہ بے روزگار نوجوانوں سے ٹیسٹنگ فیسوں کے نام پر اربوں روپے کی لوٹ مار ختم ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…