اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

مرنے سے کچھ دیر پہلے نمرتا نے آخری میسج میں کیاکہا؟ دوستوں نے عدالت میں نئی کہانی بیان کر دی

datetime 12  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(آن لائن)نمرتا ہلاکت کیس میں مہران ابڑو اور علی شاہ کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے سامنے پیش کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق آج زیر حراست دونوں افراد کو جوڈیشل انکوائری افسر کے روبرو پیش کیا گیا۔جوڈیشل انکوائری افسر نے نمرتا کے دونوں دوستوں کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں۔

علی شان نے اپنے بیان میں کہا کہ نمرتا کی ہلاکت سے قبل جب آخری بار بات ہوئی تو میں نے ان کو میسج کیا اور لائبریری میں آنے کو کہا۔تاہم انہوں نے مجھے بائے کا میسج لکھا۔اس کے بعد میں نے کئی کالز کیں لیکن نمرتا سے رابطہ نہ ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اور مہران نے کبھی بھی نمرتا کا اے ٹی ایم کارڈ استعمال نہیں کیا۔اگر ہم کبھی کھانا بھی کھاتے تھے تو سب لوگ پیسے شئیر کرتے تھے۔علی شان نے مزید کہا کہ مہران سے شادی کے معاملے پر نمرتا کے والدین نے ملنے سے منع کر دیا تھا۔نمرتا کے والدین نے اسے ہم سے ملنے سے بھی منع کیا تھا اور نمرتا گھر سے باہر ہم سے ملاقات کرتی تھی۔خیال رہے کہ جمعرات کے روز بی بی آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ کی طالب علم ڈاکٹر نمرتا چندانی کے موت کے سلسلے میں وزارت داخلہ کی جانب سے عدالتی تحقیقات کی درخواست پر ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاڑکانہ کی سربراہی میں جڈیشل انکوائری مقرر کی، جو گذشتہ پانچ روز سے یونیورسٹی انتظامیہ خواہ دیگر سے حلف نامے لینے کے بعد بیانات ریکارڈ کرائے جا رہے ہیں، جس کے تحت جمعرات کے روز مزید چھ افراد نے اپنے بیانات جڈیشل انکوائری کے سامنے ریکارڈ کرائے ہیں، جبکہ بقایا نو افراد کل جمع کے روز بیانات دیں گے۔

دوسری جانب اتنے روز گزر جانے کے باوجود نمرتا کے ورثا میں سے کسی فرد نے بیان ریکارڈ نہیں کرایا ہے، اور نہ ہی پولیس انتظامیہ کے متعلقہ افسران کے بیانات لیے گئے ہیں۔ دوسری جانب لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کی جانب سے میڈیکل رپورٹ بھیج دی گئی جو نہ تو اسٹاف اور نہ ہی میڈیکل لیگل افسران نے وصول کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…