اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

شام میں ترک آپریشن کے بعد دسیوں ہزار افراد بے گھر

datetime 11  اکتوبر‬‮  2019 |

انقرہ /دمشق (این این آئی)ترکی کی افواج کی جانب سے کردوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر حملوں میں تیزی آنے کے بعد شمالی شام میں دسیوں ہزار افراد نے اپنے گھر بار چھوڑ دیے ہیں۔ترک فوج نے سرحدی قصبوں راس العین اور تل ابیض کو گھیرے میں لے لیا ہے اور امدادی اداروں کو خدشہ ہے کہ یہ انخلا لاکھوں کی تعداد تک پہنچ سکتا ہے۔دوسری جانب عالمی برادری کی جانب سے ترکی کے اس اقدام کی مذمت کی جا رہی ہے۔

اور ترکی پر زور دیا جا رہا کہ وہ یہ حملے بند کرے۔ترکی نے کرد ملیشیا سے پاک محفوظ زون بنانے کی اپنی کارروائی کا دفاع کیا ہے جہاں شامی مہاجرین بھی رہ سکتے ہیں۔ترکی کرد ملیشیا کی سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کو دہشت گرد قرار دیتا ہے جو اس کے بقول ترکی مخالف شورش کی حمایت کرتی ہیں۔واضح رہے کہ ایس ڈی ایف دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکہ کی کلیدی حریف رہی ہیں۔خیال رہے کہ ترکی کی یہ کارروائی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس خطے سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے فیصلے کے بعد شروع ہوئی ہے اور اس اقدام کو دراصل حملے کی اجازت کے حربے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔امریکہ میں صدر ٹرمپ کے رپبلکن اتحادیوں میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کے انخلا نے ترکی کو موثر طور پر حملے کے لیے گرین لائٹ دی۔بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق 64,000 افراد پہلے ہی اپنا گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔ برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی یہی تعداد بتائی ہے۔آئی آر سی کی مستی بس ویل کا کہنا ہے اگر کارروائی جاری رہی تو یہ ممکن ہے کہ 300,000 افراد بے گھر ہو سکتے ہیں۔ایک دوسری امدادی تنظیم نے متنبہ کیا ہے کہ یہ تعداد 450,000 بھی ہو سکتی ہے۔بس ویل کا کہنا ہے آئی آر سی کی ٹیمیں گراؤنڈ میں موجود ہیں، اگرچہ دیگر اطلاعات کے مطابق کچھ امدادی گروپ ترکی کی سرحد سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…