بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

35 سال میں 93 خواتین کاقتل کیا،امریکی تاریخ کے خطرناک قاتل کا اعتراف

datetime 8  اکتوبر‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کی تاریخ کے سب سے خطرناک قاتل سیمول لٹل نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے 35 سال میں 93 خواتین کا قتل کیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے ایک 79 سالہ امریکی سیریل کلر سیمول لٹل کے اعترافات سامنے آئے ہیں جس نے سال 1970 سے 2005 تک93 خواتین کا قتل کیا ہے اور قتل کرنے کے بعد ان کے خاکے بھی بنائے ہیں۔

فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن(ایف بی آئی)کا کہنا تھا کہ سیمول لٹل کی جانب سے جاری کیے گئے خاکوں کی مدد سے مقتولین کی شناخت کی جائے گی۔ تاہم ان میں سے کچھ کی شناخت ہوگئی ہے۔ایف بی آئی کا تفتیش کے بعد یہ کہنا تھا کہ ابھی تک سیمول لٹل کے 50 افراد کے قتل کرنے کی تصدیق ہوئی ہے، لیکن تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ قاتل کے تمام93 اعترافات درست ہیں۔ایف بی آئی نے ایک ویب سائٹ بنائی ہے جہاں انہوں نے وہ تمام خاکے جاری کیے ہیں جو سیریل کلر سیمول لٹل نے خود بنائے ہیں، یہ خاکے ان تمام خواتین کے ہیں جنہیں اس نے قتل کیا تھا۔ایف بی آئی کے جرائم کی تجزیہ کار کرسٹی پلازولو کا کہنا تھا کہ بہت سالوں تک سیمول لٹل کا ماننا تھا کہ اسے پکڑا نہیں جائے گا کیونکہ کسی نے اس کے خلاف مقدمہ درج نہیں کرایا تھا۔ اس کے علاوہ زیادہ تر ہلاکتوں کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ حادثاتی طور پر ہوئیں ہیں یا ان کی وجہ معلوم نہ ہوسکی جبکہ کچھ لاشیں کبھی ملی ہی نہیں ہیں۔کرسٹی پلازولو نے کہا کہ سیمول لٹل ابھی صرف تین خواتین کے قتل کے جرم میں جیل میں ہے لیکن ایف بی آئی کا ماننا ہے کہ ہر مقتول کے لیے انصاف ضروری ہے تاکہ کیس بند ہو سکے۔ماضی میں باکسر رہنے والے سیمول لٹل جنہیں سیمول مکڈوول کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو پہلی بار 2012 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت وہ امریکی ریاست کنٹکی میں بے گھر افراد کے لیے بنی ایک پناہ گاہ میں رہتے تھے۔ وہ پہلی مرتبہ منشیات کے الزام میں گرفتار ہوئے اور کیلی فورنیا بھیج دیے گئے۔کیلی فورنیا میں ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد مزید تین کیسز سامنے آئے جس کے بعد انہیں 1987 سے 1989 کے درمیان کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس میں تین عورتوں کے قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی۔سیمول لٹل نے تینوں خواتین کو تشدد کے بعد ان کا گلا گھونٹ کر قتل کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…