بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا حکومت نے ایک بارپھر سہ فریقی اتحاد کومذاکرات کی دعو ت دیدی

datetime 10  جون‬‮  2015 |
PESHAWAR, PAKISTAN, SEP 25: Tehreek-e-Insaf Chairman, Imran Khan talks to media persons during his visit to inquire after the health of Kohati Gate Church bomb blast victims at Lady Reading Hospital in Peshawar on Wednesday, September 25, 2013. (Fahad Pervez/PPI Images).

پشاور(نیوزڈیسک)خیبرپختونخوا حکومت نے ایک بارپھر سہ فریقی اتحاد کومذاکرات کی دعو ت دیدی،اپوزیشن جماعتیں جومطالبات سڑکوں اورچوراہوں پر کررہے ہیں وہ آپس میں مل بیٹھ کر حل کئے جاسکتے ہیں،احتجاج اورہڑتال کومسترد کرنے پر صوبے کے غیورعوام کے مشکور ہیں۔مشتاق غنی نے کہا کہ جو سیاسی جماعتیں عام انتخابات میں بری طرح پٹ چکی تھی آج کے ناکام احتجاج نے انکی رہی سہی کسر پوری کردی ہے سہ فریقی اتحاد نے آ ج جو مطالبے چوک میں کھڑے ہوکر کئے ہیں وہ مزاکرات کے ذریعے بھی کر سکتے تھے صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا کہ سہ فریقی اتحاد زیادہ لوگوں کو اکھٹا کرنے میں ناکام ہوا ۔۔۔آج ڈنڈوں کے زور پر دکانداروں سے دکانیں بند کروائی گئی تاہم ہم خیبر پختونخوا کے غیور عوام کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے آج کے احتجاج کو مسترد کر دیا۔۔۔ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں ہنگامہ آرائی کی نہیں بلکہ کروائی کئی تاکہ انتخابات کو ناکام کیا جاسکے ۔ ہم اب بھی تمام اپوزیشن جماعتوں کواے پی سی میں آنے کی دعوت دیتے ہیں مشتاق غنی نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ اسلئے کر رہے ہیں تاکہ یہ ذمہ داری عائد کی جاسکے کہ آخر قصور کس کا ہے اورعوامی نیشنل پارٹی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ اس لئے کررہے ہیں کہ انہیں اقتدار مل جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…