بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

شفقت حسین کے ڈیتھ وارنٹ کے خلاف دائر اپیل خارج

datetime 10  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ نے مجرم شفقت حسین کے ڈیتھ وارنٹ کے خلاف دائر اپیل خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ رحم کی اپیل خارج کی جا چکی ہے انتظامی اختیارات میں عدالت دخل اندازی نہیں کر سکتی کیا عدالت صدر کے اختیارات استعمال کر سکتی ہے ۔ انتظامیہ بہت آگے گئی ہے اور یہ غیر معمولی واقعہ ہے اس سے قبل ایسا نہیں ہوا کہ عدالتی فیصلہ کے بعد انتظامیہ نے ایسا کیا ہو ہم انتظامیہ کی جانب نہیں جا رہے ۔ عدالتی فیصلے آ چکا ہے ہم کچھ نہیںکر سکتے عمر کے معاملے کو میڈیا نے متنازعہ بنایا اور پھر بظاہر وزارت داخلہ نے عمر کے تعین کا فیصلہ کیا ۔ انتظامیہ مجرم کی عمر کا تعین کیسے کر سکتی ہے جبکہ اب معافی کی درخواست بھی خارج کر چکی ہے ۔ یہ ریمارکس چیف جسٹس ناصر الملک نے بدھ کے روز دی ہے چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ اس دوران مجرم کے وکیل ڈاکٹر طارق حسن نے عدالت کو بتایا کہ مجرم کو تاحال پھانسی کی سزا نہیں دی گئی ہے تین باتیں واضح ہیں کسی عدالتی فیصلے کی بات نہیں کرتا ۔ میرا اس ملک کے عدالتی نظام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے میں تو اپنے بنیادی حقوق کا تحفظ چاہتا ہوں ۔ سزا یافتہ ہونے کے باوجود بھی میرے موکل کے حقوق ہیں گزشتہ 10 سالوں سے جیل میں ہوں آرٹیکل 45 کے تحت اور عالمی قوانین کے تحت بھی ان کا حق بنتا ہے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پاکستانی قانون کے تحت ہی کوئی حکم جاری کر سکتے ہیں آپ کا مقدمہ یہ ہے کہ معافی آپ کا حق ہے ۔ اس پر وکیل نے کہا کہ نہیں میں یہ کہہ رہا ہوں میری عمر کا مسئلہ ہے سیکشن 12 عدالت کے سامنے نہیں آیا ۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے خود ہی کہا ہے کہ آپ عدالتی فیصلوں پر نہیں جائیں گے جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ آرٹیکل 45 کے تحت کیا صدر کو مجرم کے تعین کا کوئی اختیار بھی ہے یہ معاملہ ختم ہو جاتا ہے

مزید پڑھیے:بھارت میں دلہن سے ہاتھ ہوگیا۔۔۔۔کیسے؟

اس کی عمر کا معاملہ مجرم نے خود نہیں اٹھایا ۔ نظرثانی میں یہ معاملہ پہلی بار اٹھایا گیا عدالتی معاملہ ختم ہو جاتا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ اب انتظامیہ مجرم کی عمر کا دوبارہ تعین کیسے کر سکتی ہے اس کی معافی کی درخواست بھی خارج ہو چکی ہے جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آرٹیکل 45 کے تحت اب انتطامیہ یہ معاملہ نہیں اٹھا سکتی ۔ یہ دوسرا نظرثانی کا کیا ہو گا بعدازاں عدالت نے مجرم کی درخواست خارج کر دی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…