بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے جمعہ کے اجتماعات روکنے کے لیے مساجد پر تالے لگادیئے

datetime 6  ستمبر‬‮  2019 |

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کی دستان جاری رکھے ہوئے ہے ۔آج جمعہ کے روز نمازیوں کو روکنے کیلئے پابندیاں بڑھا دی گئیں ،مقبوضہ کشمیر میں آج کرفیو کا 33واں دن ہے ۔ کشمیر ی نماز جمعہ کی ادائیگی نہ کر سکے ۔ بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں مساجد کے ارد گرد پہرے سخت کردیئے مسلسل پانچویں ہفتے جمعے کے اجتماعات نہ ہوں مسجدوں میں تالے ڈال دیئے

جبکہ لاوڈ اسپیکر پر پابندی لگادی گئی‘مقبوضہ کشمیر میں 33 روز سے کرفیو اور پابندیاں برقرار ہیں۔جبکہ دوسری جانب بھارت کی قید میں موجود حریت پسند کشمیری رہنما یٰسین ملک کی قیادت کی سربراہی میں قائم تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) نے 4 اکتوبر کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی طرف پرامن آزادی مارچ کرنے کا اعلان کردیا۔ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد اور مظفرآباد کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مارچ کے لیے کوئی رکاوٹ پیدا نہ کریں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق جے کے ایل ایف کے مرکزی ترجمان محمد رفیق ڈار نے ایک پریس کانفرنس میں اس مارچ کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ ‘بھارت کے زیرقبضہ کشمیر میں محصور عوام سے اظہار یکجہتی، مقبوضہ وادی میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی طرف عالمی برادری کی توجہ دلانے اور اس مسئلے کے مستقل اور جمہوری طریقے سے ترجیحی بنیادوں پر حل کے لیے ہم نے ایک انقلابی فیصلہ کیا ہے کہ جے کے ایل ایف کے قائم مقام چیئرمین عبدالحمید بٹ کی قیادت میں بھمبر سے چھکوٹھی تک پرامن لوگوں کا آزادی کشمیر مارچ ہوگا’۔ ایل او سی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘بعدازاں ہم خونی لائن یا سیزفائر لائن جو جموں و کشمیر کو چھکوٹھی سیکٹر سے علیحدہ کرتی ہے اسے روند دیں گے’۔ترجمان نے بتایا کہ یہ فیصلہ راولپنڈی میں 30 اگست کو ہونے والی جے کے ایل ایف کی سب سے سے بااختیار ‘سپریم کونسل’ اور آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کی زونل ورکننگ کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا تھا۔جے کے ایل ایف کے ترجمان نے کہا کہ بھارت نے پوری وادی کو فوجی حراستی کیمپ میں تبدیل کردیا ہے، لوگوں کو اپنے گھروں میں محصور کردیا ہے اور مواصلاتی رابطے منقطع ہیں جبکہ مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو نافذ ہے۔انہوں نے کہا کہ جے کے ایل ایف کے سربراہ یٰسین ملک پہلے ہی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید تنہائی میں ہیں جبکہ حریت قیادت سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق بھی نظربند ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ان قائدین کے علاوہ شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، نور محمد کلوال، ڈاکٹر فیاض احمد، میاں عبدالقیوم، محمد یاسین خان اور ہزاروں نوجوان مختلف بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں قید ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر کی حکومت ہمارے ساتھ 4 اکتوبر سے پہلے یا بعد میں ایل او سی کے اس پار چانے والے مارچ میں شامل ہوتی ہے تو جے کے ایل ایف قومی اتفاق رائے کی خاطر تاریخ کو دوبارہ ایڈجسٹ ۔کرنے کے لیے تیار ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…