جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت نے مختلف ادویات میں استعمال کیے جانے والے خام مال اور کیمیکلز پاکستان کو دینے سے روک دیا

datetime 30  اگست‬‮  2019 |

مظفر آباد (این این آئی)بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پاکستان نے انڈیا سے تمام تجارتی تعلقات منقطع کر دئیے جس کے بعد انڈیا سے آنے والے اور مختلف ادویات میں استعمال کیے جانے والے خام مال اور کیمیکلز کو بھی پاکستان میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ۔اس پابندی کے باعث پاکستان میں فارماسوٹیکل انڈسٹری کے مطابق زندگی بچانے والی بیشتر ادویات کی

قیمتوں میں اضافے اور مارکیٹ میں ان کی کمی کا خدشہ بڑھنے لگا ہے۔پاکستان میں ادویات کی قلت کے خدشے کے پیش نظر گذشتہ ہفتے وفاقی وزیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں فریقین نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور مسئلے کا جلد از جلد حل نکالنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین امجد علی جاوا کے مطابق یہ بات سچ ہے کہ پاکستان میں بنائی جانے والی ادویات میں استعمال ہونے والے خام مال کا تقریباً 50 فیصد حصہ انڈیا سے درآمد کیا جاتا ہے۔انہوںنے کہاکہ 820 ایسے کیمیکلز ہیں جو پاکستان کی درآمدات کا حصہ ہیں کیونکہ وہ کیمیکل پاکستان میں تیار نہیں کیے جاتے،کم وبیش 62 سے زیادہ ایسے کیمیکلز ہیں جس کے لیے پاکستان انڈیا پر زیادہ انحصار کرتا ہے جن میں سے تقریباً 23 کیمیکلز ایسے ہیں جو زندگی بچانے والی ادویات میں استعمال ہوتے ہیں،یہ ادویات دل کے امراض، ذیابیطس، بلڈ پریشر، ٹی بی اور کینسر جیسی بیماریوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جبکہ ٹی بی کی ادویات میں استعمال ہونے والا کیمیکل ’ایتھمبیوٹول‘ کا انڈیا ہی واحد ذریعہ ہے،کم و بیش 65 کیمیکلز ایسے بھی ہیں جن کے لیے پاکستان انڈیا پر کم انحصار کرتا ہے۔امجد علی جاوا کے مطابق مارکیٹ میں ادویات کا نہ ملنا اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ تجارت کی بندش کے علاوہ مریضوں کی جانب سے چند مشہور اور مخصوص برینڈز کی زیادہ مانگ کے باعث بھی ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈاکٹر اگر ایک مخصوص برانڈ کی دوا کا نسخہ لکھ کر دیتے ہیں تو مریض اسی دوا کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ اس کے متبادل ادویات مارکیٹ میں کسی اور نام سے بھی دستیاب ہوں۔دوسری جانب پاکستان میں ادویات کی صنعت کے نگران ادارے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے ترجمان اختر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی کرنا صرف وفاقی کابینہ کے اختیار میں ہے،اگر کوئی حکومت کی مقرر کردہ قیمت سے زیادہ قیمت پر دوائی فروخت کرتا ہے تو عوام کو یہ حق ہے کہ وہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں ان کے خلاف شکایت درج کریں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…