بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا بھر میں پانی کی شدید قلت کے حوالے سے 17 ممالک کو انتہائی خطرات لاحق نیویارک ٹائمزنے پاکستان سے متعلق بھی اہم انکشاف کردیا

datetime 29  اگست‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن )پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے ۔پانی زمین کی سطح کے کے لگ بھگ 71 فیصد حصہ پر محیط ہے ،تاہم زمین پر بسنے والے افراد کیلئے مجموعی طور پر محض3فیصد تازہ پانی ہی دستیاب ہے۔تازہ پانی کے دستیاب یہ محدود وسائل متعدد مختلف وجوہات اور

آبادی میں اضافے،ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تغیرات جیسے عوامل کے باعث شدید خطرے سے دوچار ہیں۔پانی کی یہ قلت ایک عالمی مسئلہ اختیار کرچکی ہے جس نے تمام براعظموں میں اربوں افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔جنوب ایشائی ممالک جو کہ بین الاقوامی آبی گذر گاہوں کا بڑا مسکن ہیں،بتدریج پانی کی قلت کی جانب بڑھ رہے ہیں اور آنے والے برسوں میں پانی کی اس قلت میں شدت متوقع ہے ۔نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں پانی کی شدید قلت کے حوالے سے 17 ممالک کو انتہائی خطرات لاحق ہیں،جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ممالک وہ تمام پانی استعمال کررہے ہیں جو کہ ان کے پاس موجود ہے ۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی پانی کی قلت کے دہانے پر ہے جہاں پانی کی سالانہ فی کس دستیابی قلت کی دہلیز چھونے کے قریب ہے ۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان سال 2025 تک مکمل طور پر آبی قلت کا شکار ہوسکتا ہے ۔ملک میں اس وقت فی کس پانی کی دستیابی انتہائی کم ہے جس کی اہم وجہ موجودہ زرعی طریقہ کار بتائے جاتے ہیں جو کہ ملک میں دستیاب پانی کا 92 فیصد خرچ کر ڈالتے ہیں،اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کے دستیاب وسائل میں بد انتظامی اس صورتحا ل کو مزید گھمبیر کررہے ہیں۔زرعی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والے پانی کا تقریبا نصف زیر زمین سے آتا ہے کیونکہ یہ موسمی دستیابی سے مشروط نہیں ہے ،اگرچہ یہ پانی کے حصول کا ایک آسانی ذریعہ ہے ،تاہم حالیہ برسوں میں اس کے استعمال میں اضافے کے باعث زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہوئی ہے،خاص کر پنجاب و سندھ میں کہ جہاں بڑے پیمانے پر زراعت کی جاتی ہے ۔پانی کے اس بے تحاشہ حصول نے سندھ طاس کو دنیا میں دوسرا دباو والا زیر زمین ذریعہ بنا دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…