بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

لاشوں کے ٹکڑے پرندوں کو کھلانے والا علاقہ، کیا آپ جانتے ہیں یہ کہاں واقع ہے؟ جانئے

datetime 17  اگست‬‮  2019 |

بیجنگ(نیوزڈیسک)دنیا کے کچھ مذاہب اور معاشروں میں انتقال کرجانے والوں کی تدفین کی جاتی ہے بعض مذاہب میں جلا یا جاتاہے ، اسی طرح اور بھی کئی طریقے رائج ہیں مگر چین کے علاقے تبت میں لوگ اپنے مرجانے والے پیاروں کے ٹکڑے کرکے چیلوں اور کوئوں کو کھلادیتے ہیں ۔تبت میں بدھ مت کے پیروکار رہتے ہیں اور ان کی مقدس کتاب میں لکھا ہواہے کہ ”تمہارا جسم دماغی (روحانی )جسم ہے جو کبھی مر نہیں سکتا۔

خواہ تمہارا سر قلم کردیا جائے یا تمہارے ٹکڑے کردیئے جائیں ۔تبت کے لوگوں کا عقید ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک نئے سفر کا آغازہوتی ہے ۔مرنے کے بعد انسان کی روح بعد ازحیات زندگی کے کئی مراحل میں سے گزرتی ہے اور ان مراحل میں اس کے راستے کا تعین ”کرما”(زندگی میں کیے گئے اعمال)کرتاہے ۔یہ لوگ کسی شخص کو اس کی موت واقع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد سیدھا بٹھا دیتے ہیں اور اسے دو دن تک ہاتھ نہیں لگاتے ۔اس دوران ایک راہب اپنی مقدس کتاب میں سے کچھ پڑھتا رہتاہے ۔دو دن بعد میت کو آخری رسومات ادا کرنے کی جگہ پر ایک جلوس کی شکل میں لے جایا جاتاہے جس کی قیادت راہب کرتے ہیں ۔اسے تبت کی زبان میں (Rogyapas)روگے اپس کہتے ہیں ۔یہاں روگے اپس تبت کے بدھ پیشوا کی ہدایات کے مطابق اس میت کے ٹکڑے کرتاہے اور پھر چیلوں کو کھلادیتاہے ۔بچ جانے والی ہڈیوں کو باریک پیس کر ان کا سفوف بنایا جاتاہے او وہی سفوف دودھ ، مکھ یا چائے میں ڈال کر گدھوں کو کھلایا جاتاہے ۔تبت کے ا ن بدھوں کا عقید ہ ہے کہ گدھ جس شخص کا گوشت اور ہڈیوں کا سفوف نہ کھائیں یا اس کا کوئی تھوڑا سا حصہ بھی بچ جائے تو یہ اس شخص کو گناہگار تصور کرتے ہیں ۔ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یہ چیلیں مرنے والے شخص کی روح کو اپنے ساتھ ”جنت ”میں لے جاتی ہیں اس لیے جس شخص کا گوشت یہ چیلیں نہ کھائیں اس شخص کا ٹھکانہ جنت کے بجائے دوزخ بن جاتاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…