منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا میں سونامی ٹری مہم کو جھٹکا ، 12 لاکھ درخت جل گئے،دوکروڑ 72 لاکھ روپے کا نقصان

datetime 11  اگست‬‮  2019 |

پشاور(اے این این) صوبہ خیبرپختونخوا کے جنگلات میں سال 2018-19 کے دوران آتشزدگی کے واقعات میں 12لاکھ سے زیادہ درخت جل گئے جن سے ایک طرف جہاں تقریبا دوکروڑ 72 لاکھ روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہیں تحریک انصاف حکومت کی سونامی ٹری مہم کو بھی زبردست جھٹکا لگا ہے۔

صوبائی محکمہ جنگلات نے اس نقصان کی تصدیق کردی ہے۔ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ان واقعات کی محکمانہ انکوائری تو کرائی جارہی ہے تاہم اس کی جامع اورآزادانہ تحقیقات کیلیے وزیراعلی خیبرپختونخوا سے جے آئی ٹی بنانے کی درخواست کی ہے۔صوبائی محکمہ جنگلات نے صوبے کے جنگلات کو 3 ریجنز میں تقسیم کررکھا ہے ان میں سینٹرل سدرن،ہزارہ اور ملاکنڈ ریجن شامل ہیں۔دستاویزات کے مطابق سینٹرل سدرن ریجن جس میں پشاور، مردان،چارسدہ،کوہاٹ،بنوں،ڈیرہ اسماعیل خان لکی مروت اور نوشہرہ کے اضلاع شامل ہیں۔ان اضلاع میں 88 ہزار708 درخت جلے ہیں۔اگرنقصان کا اندازہ لگائیں توان کی مالیت 98 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ہزارہ ڈویژن میں ایک کروڑ 70 لاکھ،ملاکنڈ ڈویژن میں تین لاکھ 60 ہزار مالیت کے درختوں کا نقصان ہوا ہے۔محکمہ جنگلات کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ اگرچہ جنگلات میں لگی آگ پر قابوپانا محکمہ جنگلات کی ذمے داری نہیں تاہم محکمہ کی طرف سے مشتبہ افراد کیخلاف ایسے واقعات کے 27 کیس درج کرائے گئے ہیں۔سینٹرل سدرن ریجن میں 9،ہزارہ میں 13 اور ملاکنڈ ڈویژن میں پانچ کیس درج کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صوابی اور نوشہرہ کی چراگاہوں میں بھی آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

محکمہ کی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کی نسبت گزشتہ ایک سال کے دوران جنگلا ت میں آگ لگنے کے واقعات کی شرح بہت بڑھ گئی ہے۔ سال 2018-19 کے دوران 139 مقامات پر آگ لگی اور اس سے ایک ہزار 735 ایکڑ رقبہ پرجنگلات متاثرہوئے۔ا س کے برعکس 2015-16 کے دوران صرف 370 ایکڑ پرجنگلات میں آگ لگی تھی لیکن اس کے بعد اگلے دوبرسوں میں یہ شرح ایک ہزار414 اور دوہزار 793 تک پہنچ گئی۔ان واقعات پر قابو پانے کیلئے محکمہ نے ایک سٹینڈرڈ پروسیجر تیارکیا ہے۔اس کیلئے ٹیمیں بنائی جائیں گی جو ہرسال انتظامیہ سے مل کر دفعہ 144 کے تحت آتشبازی پرپابندی لگوائیں گی۔ترقیاتی کاموں کیلئے مختص زمین اور جنگلات کے درمیان 100 میٹر کے بفرزون بنائے جائیں گے۔جنگلات سے پانچ سو میٹر کے اندر کے علاقے میں کوڑا کرکٹ دفن کرنے پر بھی پابندی لگادی جائیگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…