پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

محکمہ موسمیات کی موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی،پولیس کو بھی ہائی الرٹ کردیاگیا،ہنگامی اقدامات کی ہدایات جاری

datetime 8  اگست‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)آئی جی سندھ ڈاکٹر سیدکلیم امام نے محکمہ موسمیات کی جانب سے موسلادھار باشوں کی پیش گوئی کے تناظر میں سندھ بھر میں رین ایمر جینسی کے تحت پولیس کوآئندہ احکامات تک ہائی الرٹ کرتے ہوئے ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام ڈی آئی جیز،ایس ایس پیز متعلقہ ایس ایچ اوزکو امدادی کاموں اورلوگوں کو ہر ممکن ریلیف کی فراہمی کا ناصرف پابند کرینگے بلکہ اس ضمن میں متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ باہم روابط کے عمل کوبھی یقینی بنائیں گے۔

انہوں نے ہدایات جاری کیں کہ تیار کردہ رین ایمرجینسی پلان پر اسکی روح کے مطابق عمل درآمد کو صوبائی سطح پر یقینی بنایا جائے جبکہ ٹریفک پولیس باالخصوص بارشوں کے باعث زیرآب آجانیوالی سڑکوں کے لئے متبادل روٹس اور انکی تشہیرکوبھی یقینی بنائیں گے۔انہوں نے کہاکہ نشیبی علاقوں کی شاہراہوں /گلیوں سے پانی کی نکاسی،سڑکوں پر خراب ہوجانیوالی گاڑیوں کو فوری ہٹاکرسڑکوں کو کلیئر کرنے کے لیئے متعلقہ اداروں کے تعاون سے تمام تراقدامات کو ممکن بنایا جائے۔تمام ایس ایس پیز ضلعی/ٹریفک زونز متعلقہ ایس ایچ اوز/سیکشن افسران کو علاقوں میں موجودگی کاباقاعدہ پابندبنائینگے۔انہوں نے ہدایات جاری کیں کہ تمام ضلعی پولیس کنٹرول رومز/ ٹریفک پولیس کنٹرول ممکنہ بارشوں سے علاقوں کی صورتحال /ریسکیو ورکنگ اور سڑکوں پرٹریفک کی صورتحال/ٹریفک اقدامات کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ ناصرف نوٹ کرینگے بلکہ رپورٹ برائے ملاحظہ و مزید ضروری اقدامات متعلقہ سپروائزری افسران کو بھی ارسال کرینگے۔دریں اثناء کے الیکٹرک نے کراچی میں متوقع طوفانی بارشوں کے پیش نظر کمشنرکراچی کو خط لکھ ڈالا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ شہر سے غیر قانونی کنڈوں کے خاتمے کیلئے تمام شہری اداروں کی مدد درکارہے۔کے الیکٹرک کی جانب سے کمشنر کراچی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ بارش سے قبل مرمت اور بجلی تنصیبات کامعائنہ کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو تمام سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کو مل کرکام کرنا ہوگا۔خط میں کہا گیا ہے کہ پانی کے باعث بجلی کی بحالی کی کوششیں بری طرح متاثر ہوتی ہیں اس لیے بارش کے پانی کی نکاسی کا فوری انتظام ضروری ہے۔ شہریوں کو تمام سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کو مل کرکام کرنا ہوگا۔کے الیکٹرک نے خط میں اپنے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ کچی آبادی اور تجاوزات میں کنڈوں کی بہتات بھی حادثات کا باعث بنتی ہے، کنڈا ہٹاؤ مہم کے بعد بھی کنڈے دوبارہ لگا لئے جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…