منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

محکمہ موسمیات کی موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی،پولیس کو بھی ہائی الرٹ کردیاگیا،ہنگامی اقدامات کی ہدایات جاری

datetime 8  اگست‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)آئی جی سندھ ڈاکٹر سیدکلیم امام نے محکمہ موسمیات کی جانب سے موسلادھار باشوں کی پیش گوئی کے تناظر میں سندھ بھر میں رین ایمر جینسی کے تحت پولیس کوآئندہ احکامات تک ہائی الرٹ کرتے ہوئے ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام ڈی آئی جیز،ایس ایس پیز متعلقہ ایس ایچ اوزکو امدادی کاموں اورلوگوں کو ہر ممکن ریلیف کی فراہمی کا ناصرف پابند کرینگے بلکہ اس ضمن میں متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ باہم روابط کے عمل کوبھی یقینی بنائیں گے۔

انہوں نے ہدایات جاری کیں کہ تیار کردہ رین ایمرجینسی پلان پر اسکی روح کے مطابق عمل درآمد کو صوبائی سطح پر یقینی بنایا جائے جبکہ ٹریفک پولیس باالخصوص بارشوں کے باعث زیرآب آجانیوالی سڑکوں کے لئے متبادل روٹس اور انکی تشہیرکوبھی یقینی بنائیں گے۔انہوں نے کہاکہ نشیبی علاقوں کی شاہراہوں /گلیوں سے پانی کی نکاسی،سڑکوں پر خراب ہوجانیوالی گاڑیوں کو فوری ہٹاکرسڑکوں کو کلیئر کرنے کے لیئے متعلقہ اداروں کے تعاون سے تمام تراقدامات کو ممکن بنایا جائے۔تمام ایس ایس پیز ضلعی/ٹریفک زونز متعلقہ ایس ایچ اوز/سیکشن افسران کو علاقوں میں موجودگی کاباقاعدہ پابندبنائینگے۔انہوں نے ہدایات جاری کیں کہ تمام ضلعی پولیس کنٹرول رومز/ ٹریفک پولیس کنٹرول ممکنہ بارشوں سے علاقوں کی صورتحال /ریسکیو ورکنگ اور سڑکوں پرٹریفک کی صورتحال/ٹریفک اقدامات کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ ناصرف نوٹ کرینگے بلکہ رپورٹ برائے ملاحظہ و مزید ضروری اقدامات متعلقہ سپروائزری افسران کو بھی ارسال کرینگے۔دریں اثناء کے الیکٹرک نے کراچی میں متوقع طوفانی بارشوں کے پیش نظر کمشنرکراچی کو خط لکھ ڈالا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ شہر سے غیر قانونی کنڈوں کے خاتمے کیلئے تمام شہری اداروں کی مدد درکارہے۔کے الیکٹرک کی جانب سے کمشنر کراچی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ بارش سے قبل مرمت اور بجلی تنصیبات کامعائنہ کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو تمام سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کو مل کرکام کرنا ہوگا۔خط میں کہا گیا ہے کہ پانی کے باعث بجلی کی بحالی کی کوششیں بری طرح متاثر ہوتی ہیں اس لیے بارش کے پانی کی نکاسی کا فوری انتظام ضروری ہے۔ شہریوں کو تمام سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کو مل کرکام کرنا ہوگا۔کے الیکٹرک نے خط میں اپنے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ کچی آبادی اور تجاوزات میں کنڈوں کی بہتات بھی حادثات کا باعث بنتی ہے، کنڈا ہٹاؤ مہم کے بعد بھی کنڈے دوبارہ لگا لئے جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…