جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا : پولیو کے مزید 5 کیسز، مجموعی تعداد 53 تک پہنچ گئی

datetime 7  اگست‬‮  2019 |

پشاور (آن لائن)صوبہ خیبرپختونخوا میں پولیو ویکسین کے خلاف جاری پروپگینڈے اور وہاں پر والدین کی جانب سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے بچوں کو نہ پلانے کی باعث صوبے میں مزید 5 کیسز سامنے آگئے ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے ترجمان برائے انسداد پولیو مہم بابر بن عطا کا کہنا تھا کہ حال ہی میں جو پولیو کیسز سامنے آئے ہیں ان میں سے کسی بھی بچے کو کبھی بھی پولیو ویکسین نہیں دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ پشاور میں رواں سال اپریل میں پیش آنے والے واقعات کے بعد والدین کی جانب سے انسداد پولیو مہم کی شدید مخالفت سامنے آئی ہے۔بابر بن عطا کا کہنا تھا کہ لوگوں نے اپنے گھروں میں مارکر رکھے ہوئے تھے اور انسداد پولیو مہم کے آغاز سے قبل ہی وہ اپنے بچوں کی انگلیوں پر نشان لگالیتے تھے۔ خیال رہے کہ 2017 کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیو کے صرف 8 کیسز سامنے آئے تھے، تاہم رواں برس کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران ان کی تعداد 53 تک پہنچ چکی ہے۔حال ہی میں سامنے آنے والے 5 پولیو کیسز بنوں، شمالی وزیرستان اور چارسدہ میں سامنے آئے ہیں۔قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) میں پولیو ورگولوجی لیبارٹری کے عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تین کیسز بنوں جبکہ شمالی وزیرستان اور چارسدہ سے ایک ایک کیس سامنے آیاتحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انسداد پولیو مہم کے دوران ان میں سے کسی بھی بچے کو ویکسین نہیں دی گئی تھی۔ خیال رہے کہ پشاور میں انسداد پولیو مہم کے دوران ماشوخیل کے ایک اسکول کے بچوں کے اہل خانہ نے حیات آباد میڈیکل کمپلکس پر حملہ کیا تھا جہاں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ پولیو ویکسین کی وجہ سے ان کے بچوں کی حالت غیر ہوئی تھی۔بعدازاں تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ انسداد پولیو مہم کو روکنے کے لیے ایک ڈرامہ کیا گیا تھا جبکہ تمام بچے محفوظ تھے۔اس واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی گئی لیکن اس واقعے کے بعد انسداد پولیو مہم کو مزید رکاوٹ کا سامنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…