جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھر میں ایڈز مریضوں کی تعداد میں خوفناک اضافہ،انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 6  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن)وزارت صحت کے حکام نے کہا ہے کہ اس وقت ملک بھر میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 23 ہزار سے زائد ہے جن میں سے 15ہزار مریضوں کا علاج ہو رہا ہے، ایڈز کے مریضوں میں 18220 مرد، خواتین مریضوں کی تعداد 4170، 564 بچے، 426 بچیاں بھی اورخواجہ سراں کی تعداد 379 ہے، ایڈز کے خاتمہ کے لئے ملک بھر میں 38 مراکز کام کررہے ہیں۔

منگل کوجاری بیان میں انہوں نے بتایاکہ ملک بھر میں اس وقت ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 23 ہزار سے زیادہ ہے اور نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کی رپورٹ کے مطابق ملک میں ایڈز کے شکار افراد کی تعداد تقریبا 165000 ہے جبکہ ان میں سے صرف 23757 افراد نے متعقلہ سینٹر میں اپنے آپ کو رجسٹر کروایا ہے جبکہ بلوچستان میں ایڈز سے متاثرہ 834 مریض رجسٹرڈ ہیں۔انہوں نے کہا کہ رجسٹرڈ ہونے والے ایڈز سے متاثرہ 23757 افراد میں سے 15000 سے زیادہ افراد کا علاج کیا جا رہا ہے۔5ہزار سے زائد افراد انجیکشن کے ذریعے ڈرگ لینے کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا ہوئے۔ وزارت کے حکام کے مطابق ایڈز کے مریضوں میں 18220 مرد ہیں جبکہ خواتین مریضوں کی تعداد 4170 ہے، اس کے علاوہ 564 بچے اور426 بچیاں بھی اس مرض میں مبتلا ہیں جبکہ ایڈز کے مریض خواجہ سراں کی تعداد 379 ہے۔ایڈز کی2 ہزار4 سے زیادہ مریضوں کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔ سندھ کے مریضوں کی تعداد 8ہزار 867 ہے۔ پنجاب کے مریضوں کی تعداد 12 ہزار 202ہے اور وفاق میں 2 ہزار 424 ہے۔انہوں نے کہاکہ غیر محفوظ جنسی تعلقات کے علاوہ خون کی تبدیلی میں استعمال شدہ سرنج کا استعمال اور سرنج کے ذریعے نشے کا استعمال بھی اس مرض کے پھیلاؤ میں سب سے بڑی وجوہات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان مریضوں کے علاج کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جارہے ہیں جن میں مریض کو ادویات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ والدین سے بچوں میں منتقل ہونے والے اس مرض کی روک تھام کے لیے اقدامات بھی شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…