منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

بے نامی اثاثے رکھنے والوں کی شامت حساس اداروں کے نمائندوں پر مشتمل اعلی سطح کی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ

datetime 3  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد(سی پی پی) اثاثہ جات ظاہر کرنے کی اسکیم کے بعد حکومت نے بے نامی اثاثے رکھنے والوں کے خلاف کارروائی میں تیزی لانے کیلئے حساس اداروں کے نمائندوں پر مشتمل اعلی سطح کی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وفاقی حکومت نے 6 رکنی بے نامی انفارمیشن پروسیسنگ کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دیدی۔

بے نامی انفارمیشن کمیٹی جے آئی ٹی طرز پر بنائی جائے گی۔ کمیٹی میں آئی ایس آئی، آئی بی ، ایف آئی اے، ایف بی آر، سٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی)کے گریڈ 18 اور گریڈ 19 کے افسران شامل ہونگے۔ ممبر ایف بی آر نیشنل کوآرڈینیٹر (بے نامی) نوشین جاوید امجد کمیٹی کی سربراہ ہوں گی۔ کمیٹی بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ 2017 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔کمیٹی ملک بھر میں موجود بے نامی اثاثوں اور ان کے مالکان کے حوالے سے معلومات اکٹھی کرکے متعلقہ حکام کو فراہم کرے گی۔ کمیٹی بے نامی قوانین پر عملدرآمد کے عمل کو تیز کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی جبکہ حکام کی کارکردگی کو موثر بنانے میں بھی کمیٹی سہولت کاری کرے گی۔ کمیٹی ممبران اپنے دفاتر میں رہ کر کام کریں گے جبکہ کمیٹی کی چیئرمین ضرورت پڑنے پر بے نامی انفارمیشن پروسیسنگ کمیٹی کا اجلاس بلائیں گی۔ بے نامی انفارمیشن پروسیسنگ کمیٹی کے قیام کے لیے ریونیو ڈویژن کی جانب سے وفاقی کابینہ کو سمری بھیجی گئی تھی جو وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر منظور کرلی۔سمری کے مطابق ملک میں بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ 2017 فروری 2017 سے نافذ ہے۔ ریونیو ڈویژن نے 11 مارچ 2019 کو بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ کے رولز کا نوٹیفیکیشن جاری کیا اور سرکاری امور کے لیے افسران بھی مقرر کیے۔سمری میں کہا گیا ہے کہ بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ کے سیکشن 55 کے تحت حساس اور ریاستی اداروں کے نمائندوں پر ایک ایسی کمیٹی کے قیام کی ضرورت ہے جو بے نامی قوانین کے تحت ہونے والی کارروائی کے عمل کو تیز کرنے اور حکام کو سہولت فراہم میں مددگار ہو۔وفاقی کابینہ نے سمری کے پیرا ٹو کے مطابق بے نامی انفارمیشن پروسیسنگ کمیٹی کے قیام کی منظوری دے دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…