منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

بے نامی اثاثے رکھنے والوں کی شامت حساس اداروں کے نمائندوں پر مشتمل اعلی سطح کی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ

datetime 3  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد(سی پی پی) اثاثہ جات ظاہر کرنے کی اسکیم کے بعد حکومت نے بے نامی اثاثے رکھنے والوں کے خلاف کارروائی میں تیزی لانے کیلئے حساس اداروں کے نمائندوں پر مشتمل اعلی سطح کی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وفاقی حکومت نے 6 رکنی بے نامی انفارمیشن پروسیسنگ کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دیدی۔

بے نامی انفارمیشن کمیٹی جے آئی ٹی طرز پر بنائی جائے گی۔ کمیٹی میں آئی ایس آئی، آئی بی ، ایف آئی اے، ایف بی آر، سٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی)کے گریڈ 18 اور گریڈ 19 کے افسران شامل ہونگے۔ ممبر ایف بی آر نیشنل کوآرڈینیٹر (بے نامی) نوشین جاوید امجد کمیٹی کی سربراہ ہوں گی۔ کمیٹی بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ 2017 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔کمیٹی ملک بھر میں موجود بے نامی اثاثوں اور ان کے مالکان کے حوالے سے معلومات اکٹھی کرکے متعلقہ حکام کو فراہم کرے گی۔ کمیٹی بے نامی قوانین پر عملدرآمد کے عمل کو تیز کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی جبکہ حکام کی کارکردگی کو موثر بنانے میں بھی کمیٹی سہولت کاری کرے گی۔ کمیٹی ممبران اپنے دفاتر میں رہ کر کام کریں گے جبکہ کمیٹی کی چیئرمین ضرورت پڑنے پر بے نامی انفارمیشن پروسیسنگ کمیٹی کا اجلاس بلائیں گی۔ بے نامی انفارمیشن پروسیسنگ کمیٹی کے قیام کے لیے ریونیو ڈویژن کی جانب سے وفاقی کابینہ کو سمری بھیجی گئی تھی جو وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر منظور کرلی۔سمری کے مطابق ملک میں بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ 2017 فروری 2017 سے نافذ ہے۔ ریونیو ڈویژن نے 11 مارچ 2019 کو بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ کے رولز کا نوٹیفیکیشن جاری کیا اور سرکاری امور کے لیے افسران بھی مقرر کیے۔سمری میں کہا گیا ہے کہ بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ کے سیکشن 55 کے تحت حساس اور ریاستی اداروں کے نمائندوں پر ایک ایسی کمیٹی کے قیام کی ضرورت ہے جو بے نامی قوانین کے تحت ہونے والی کارروائی کے عمل کو تیز کرنے اور حکام کو سہولت فراہم میں مددگار ہو۔وفاقی کابینہ نے سمری کے پیرا ٹو کے مطابق بے نامی انفارمیشن پروسیسنگ کمیٹی کے قیام کی منظوری دے دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…